بی زید یو: وی سی کا ملاقات سے انکار، انتظامیہ اور اےایس اے آمنےسامنے

ملتان (وقائع نگار) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ نہ صرف ادارے بلکہ ملک بھر کی جامعات کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور افسوسناک مثالکے طور پر سامنے آیا ہے جس نے تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس واقعے میں اساتذہ اور یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی، بدزبانی اور بدتمیزی کے الزامات سامنے آئے ہیں جس کے باعث اساتذہ کے وقار، اکیڈمک روایات اور پیشہ ورانہ اخلاقیات پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن (اے ایس اے) کے صدر ڈاکٹر محمد بنیامین، نائب صدر ڈاکٹر ثمرہ مسعود اور دیگر عہدیداران وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری سے ملاقات کے لیے ان کے دفتر پہنچے۔ تاہم وائس چانسلر نے تمام عہدیداران سے اجتماعی ملاقات سے انکار کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اے ایس اے کے صدر کو اکیلے ملاقات کے لیے آنا چاہیے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسی ہدایت کے تحت پی اے ٹو وائس چانسلر محمد امین اور سکیورٹی گارڈ جاوید نے دفتر کا دروازہ بند کر دیا۔ صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب اے ایس اے کی نائب صدر ڈاکٹر ثمرہ مسعود نے وی سی آفس کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس موقع پر سیکرٹری محمد امین کی جانب سے ان کا بازو پکڑنے کا الزام عائد کیا گیا، جس پر وہاں موجود اے ایس اے کے عہدیداران اور انتظامی عملے کے درمیان سخت جملوں اور نازیبا زبان کا تبادلہ ہوا۔ عینی شاہدین کے مطابق تلخ کلامی اس حد تک بڑھ گئی کہ معاملہ جسمانی تصادم کے قریب جا پہنچا، جس پر سکیورٹی عملے کو مداخلت کرنا پڑی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر زبیر اقبال غوری نے فوری طور پر چیف سکیورٹی آفیسر اور اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو طلب کیا اور بعد ازاں چیف سکیورٹی آفیسر کی گاڑی میں بیٹھ کر موقع سے روانہ ہو گئے۔ واقعے کے بعد ڈاکٹر ثمرہ مسعود نے اے ایس اے کے صدر ڈاکٹر محمد بنیامین کو بتایا کہ ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا ہے اور وہ اس واقعے کے خلاف قانونی کارروائی کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کے بعد اے ایس اے کے صدر، نائب صدر اور دیگر عہدیداران مبینہ طور پر مقدمہ درج کروانےکے لیے تھانہ ڈی ایچ اے روانہ ہو گئے۔ تاہم یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آفیسر (آر او)، رجسٹرار اور دیگر انتظامی افسران نے اے ایس اے کی قیادت سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ معاملے کو قانونی کارروائی تک نہ لے جایا جائے۔ بعد ازاں تھانے میں بھی فریقین کے درمیان بات چیت ہوئی جس کے نتیجے میں معاملہ وقتی طور پر رفع دفع کر دیا گیا۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق بعد ازاں انتظامیہ اور اے ایس اے کے درمیان رابطوں کے بعد دونوں جانب سے معذرت کی گئی جس سے کشیدگی میں کمی واقع ہوئی۔ وائس چانسلر کی جانب سے اس امر کی یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ آئندہ اساتذہ کے مسائل سننے کے لیے ملاقات کا ایک مناسب، باوقار اور ادارہ جاتی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا تاکہ ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ تعلیمی حلقوں، سینئر اساتذہ اور ماہرین تعلیم نے اس واقعے کو نہایت افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی ادارے جیسے سنجیدہ اور باوقار ماحول میں اس نوعیت کی زبان اور رویہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ماہرین کے مطابق اختلافِ رائے کا ہونا ایک فطری امر ہے، تاہم اگر اسے مہذب اور پیشہ ورانہ انداز میں حل نہ کیا جائے تو تعلیمی ادارے بھی تصادم کا شکار ہو سکتے ہیں، جس سے پوری اکیڈمک کمیونٹی کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ سینئر اساتذہ کا کہنا ہے کہ اساتذہ جیسے معزز پیشے سے وابستہ افراد اور یونیورسٹی انتظامیہ دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ برداشت، مکالمے اور ادارہ جاتی وقار کو مقدم رکھیں، تاکہ جامعات کا ماحول علمی سرگرمیوں، تحقیق اور تدریس کے لیے سازگار رہے، نہ کہ تنازعات اور محاذ آرائی کا مرکز بنے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں