ملتان،ریجنل ڈائریکٹر پاسکو افتخار الدین گجر، دفتر میں موجود گاڑی، نیم پلیٹ

بیوپاریوں نےپاسکو افسران کوباردانہ کے عوض 18 کروڑ میں ’’خرید ‘‘لیا،900 روپے بوری میں ڈیل

ملتان ہائیکورٹ کے سامنے ہوٹل میں ڈیل کیلئےلودھراں کے سنٹر انچارج حضرات کو بیوپاریوں نے کمرے لے کر دئیے

انچارج اڈا شاہنال شیخ ناصر نے 65ہزار بوری کے عوض رشوت وصول کی، 900روپےکے حساب سے گارنٹی چیک

اڈا پرمٹ انچارج شعیب واہلہ نے 28 ہزار بوری، اڈا 21چک انچارج افتخار احمدنے12 ہزار بوری کی ڈیل فائنل کی

علی پور سنٹر میں باردانہ کا ریٹ 1400،رکن اسمبلی کی چٹ پر ’’رعایت‘‘،ڈپٹی کمشنر لودھراں بھی 35 ہزار بوری لے چکے

ملتان( میاں غفار سے) پاسکو کے اعلیٰ افسران کے علم میں جنوبی پنجاب میں دن رات ہونے والے حرام خوری سے مکمل آگاہی کے باوجود کسی بھی قسم کی کارروائی سامنے نہیں آرہی اور جنوبی پنجاب میں تعینات پاسکو عملہ مہنگائی کے مارےکاشتکاروں سے گندم لینے کی بجائے بیوپاریوں سے گندم لے رہا ہے اور400 روپے فی بوری سے شروع ہونے والا بار دانہ کا ریٹ پر1500فی بوری تک پہنچ چکا ہے کیونکہ مارکیٹ میں گندم کا ریٹ 2400 سے 2500روپے فی من جبکہ سرکاری ریٹ 3900روپے فی من ہے اور پاسکو نے سرکاری ریٹ پر ادائیگیاں کرنی ہوتی ہے جس سے بیوپاری مافیا اور پاسکو افراد کروڑوں روپے کما رہے ہیں۔ گزشتہ رات ملتان ہائیکورٹ کے سامنے ایک ہوٹل میں تعینات پاسکو افسران اور لودھراں کے مختلف سنٹروں پر تعینات سنٹر انچارج حضرات کو بیوپاریوں نے کمرے لے کر دئیے جہاں تمام بڑے سٹاکسٹ اور بیوپاری آئے جہاں چند گھنٹوں میں رشوت کی مد میں 18کروڑ روپے کے گارنٹی کے چیک اور نقد رقم کی بندربانٹ ہوئی اور یہ پاسکو کی تاریخ کی سب سے بڑی رشوت ہے جو کہ نچلے عملے نے وصول کی۔ گزشتہ سے پیوستہ یعنی اتوار کی رات لودھراں کے اڈا شاہنال پر واقع سنٹر کے انچارج شیخ ناصر نے سب سے زیادہ یعنی 65ہزار بوری کے عوض رشوت وصول کی او ر انہوں نے چونکہ دیر سے باردانہ تقسیم کرنا شروع کیا اس لیے انہیں اچھا ریٹ ملا اور انہوں نے 800روپے سے 900روپے فی بوری کے حساب سے گارنٹی چیک لیے اور فی بوری دس کلو گندم سے اس لیے انکار کردیا کہ گندم کے نرخ کم ہو چکے ہیں جن بیوپاریوں اور سٹاکسٹ حضرات سے شیخ ناصر کی ڈیل ہوئی ان میں رائو عابد 18ہزار بوری، طاہر منتری 10ہزاری بوری ، قاسم کباڑیا 12ہزار بوری اور سیٹھ رزاق نے 5 ہزار بوری بار دانہ لیا جبکہ کو کل 65ہزار بوری بنتی ہے اور یہ سودا اگر 800روپے فی بوری کے حساب بھی ہوا ہو جو کہ مصدقہ ذرائع کے مطابق 900میں ہے اگر 800کے حساب سے بھی رشوت کی یہ رقم 5کروڑ 20لاکھ بنتی ہے۔اڈا پرمٹ ضلع لودھراں کے انچارج شعیب واہلہ نے گندم کی بار دانہ فروخت کرنے میں جلد ی کی تو اس وقت ریٹ کم تھا لہٰذا انہوں نے 600روپے فی بوری کے حساب سے 28 ہزار بوری بار دانہ آڑھتی اور ٹائوٹ حضرات کو دیا۔ روزنامہ ’’قوم‘‘ کو ملنے والی معلومات کے مطابق ملک کبیر وھوجہ نے 10ہزار بوری باردانہ لیا۔ سیٹھ رزاق نے اس سنٹر سے بھی 600روپے فی بوری کے حساب سے 72لاکھ کے عوض 12ہزار بوری شعیب واہلہ سے لی۔ نذیر خان حاجی بیوپاری نے دس ہزار بوری جبکہ اللہ دتہ نامی بیوپاری نے 6ہزار بوری باردانہ لیا۔پاسکو سنٹر اڈا 21چک کے انچارج افتخار احمد نے اکرم نوناری نامی ایک بلیک میلر نے ایف آئی اے کے اہلکار خالد میو کے ذریعے افتخار کے خلاف درخواست دلوا کر 12ہزار بوری لی۔ اس میں سے 7ہزار بوری 700روپے فی بوری کے حساب ہے جبکہ 5ہزار بوری خالد میو کے ذریعے وصول کی۔ اس سنٹر سے وحید نامی بیوپاری نے 950 روپے فی بوری کے حساب سے 20 ہزار بوری ایک کروڑ 90لاکھ میں لی اور افتخار احمد بھی اتوار کی شام ملتان کے مذکورہ ہوٹل میں موجو د تھا۔ اعظم مہروری نامی بدنام سود خور نے 15ہزار بوری جبکہ شعیب نامی بیوپاری نے 10 ہزار بوری لی۔ بتایا گیا ہے کہ 21 چک پر سنٹر انچارج افتخار احمد نے گندم سے بھرے30ٹریکٹر ٹرالیاں اور ٹرک گزشتہ ایک ہفتے سے روک رکھے ہیں کیونکہ ان کے مالکان کے ساتھ لین دین ہے معاملات طے نہیں ہوسکے۔مظفر گڑھ کے علی پور سنٹر میں بھی باردانہ کا ریٹ 1400روپے فی بوری چل رہا ہے البتہ ایک رکن اسمبلی کے فون پر یہ ریٹ کم ہو جاتا ہے اور مذکورہ رکن اسمبلی کی چٹ چل رہی ہے ۔ مظفر گڑھ ایک رکن اسمبلی زبردستی گندم سپلائی کرارہے ہیں اور ذرائع کے مطابق وہ باردانہ کے عوض پیسے بھی نہیں دلوا رہے مگر انہیں بہت کم باردانہ دیا گیا ہے۔لودھراں میں لائل پور سنٹر میں پولیس والوں نے بھی بوریاں دلوائی ہیں اور الیکشن میں بری طرح شکست کھانے کے باوجود حکومتی پارٹی میں شامل ہونے کی وجہ سے عبدالرحمن کانجو کے قصے بھی چل رہے ہیں جبکہ مصدقہ ذرائع کے مطابق لودھراں کے ڈپٹی کمشنر عبدالرئوف مہر بھی تقریباً 35 ہزار بوری بار دانہ وصول کر چکے ہیں۔اس سلسلے میں ریجنل ڈائریکٹر افتخارالدین سے ان کے موبائل فون نمبر 0306-8155322 پر رابطہ کیا گیاتو انہوں نے فون اٹینڈ نہ کیا،رابطہ کیلئے پاسکودفتر میں گئے تو موصوف نے ملنے سے انکار کردیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں