بینک منیجرز اور یونیورسٹیز انتظامیہ کا گٹھ جوڑ، ملازمین کی تنخواہیں دانستہ لیٹ، منافع تقسیم

ملتان (سٹاف رپورٹر) اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ جڑی بعض بینک برانچوں میں مبینہ طور پر ایک ایسا مالیاتی گٹھ جوڑ بے نقاب ہوا ہے جس کے تحت بینک منیجرز، یونیورسٹی انتظامیہ کے بعض افسران کے ساتھ ملی بھگت کرکے ملازمین کی تنخواہیں جان بوجھ کر ایک دن لیٹ کرواتے ہیں اور اس تاخیر سے حاصل ہونے والا منافع آپس میں تقسیم کر لیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف یونیورسٹیوں اور بورڈز کے قریب قائم مخصوص برانچوں میں تعیناتی کے لیے بینک منیجرزمبینہ طور پر کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ اس ’’منافع بخش‘‘ نظام کا حصہ بن سکیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کچھ برانچ منیجرزاپنی پوسٹنگ سے پہلے ہی اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ متعلقہ یونیورسٹی انتظامیہ بشمول بعض وائس چانسلرز، رجسٹرارز اور خزانچی ان کے ساتھ تعاون کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی ملازمین کی مجموعی تنخواہیں کروڑوں روپے تک پہنچتی ہیں۔ اگر اتنی بڑی رقم صرف ایک دن تک بینک میں پڑی رہے تو اس پر پیدا ہونے والا منافع لاکھوں روپے بنتا ہےجسے مبینہ طور پر ’’شراکت داروں‘‘ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے بعض ملازمین نے شکایت کی ہے کہ تنخواہیں بار بار ایک دن تاخیر سے ملتی ہیںمگر ہمیشہ کوئی نہ کوئی ’’بینکنگ تکنیکی مسئلہ‘‘ بتا کر معاملہ رفع دفع کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام واقعی فعال ہے تو یہ نہ صرف اخلاقی اور انتظامی بدعنوانی ہے بلکہ اس سے تعلیمی اداروں کے ہزاروں ملازمین کی محنت کی کمائی کا ناجائز استعمال ہوتا ہے۔ سول سوسائٹی اور اساتذہ تنظیموں نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مبینہ مالی بدعنوانی کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں