بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر، سپیشل رپورٹر)بہاولپور سٹی کے اربن ایریا نو بی سی میں سرکاری پٹوار خانے کے 16 مرلے رقبے کی جعلی الاٹمنٹ اور بعد ازاں فروخت کی کوشش کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انتقال نمبر 94 کو مخصوص لابی اور چند ریونیو اہلکاروں نے چٹھی378-4-9513457cc1v/فرضی طریقہ کار کے ذریعے درج کرایا، جسے 2021 میں نظرِثانی کی تحریر کے باوجود برقرار رکھا گیا۔ریکارڈ کے مطابق مذکورہ رقبہ صوبائی حکومت کی ملکیت تھا، جسے 4 فروری 1996ء کو محمد عالم ولد شہاب الدین اور انجم عالم ولد محمد عالم (قوم آرائیں) کے نام منظور شدہ الاٹمنٹ کے طور پر ظاہر کیا گیا۔ یہ اندراج سابقہ پٹواری عبدالغفور کی جانب سے جعلی و فرضی طور پر رجسٹر میں درج کر کے منظور کروایا گیا۔جس کی تحقیقات ہونا باقی ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ 1994ء تا 2021ء انتقال پر کسی قسم کا اعتراض یا نوٹ درج نہ کیا گیا۔ بعد ازاں رانا فاروق گرداور اور خورشید پٹواری نے انتقال کو نظرِثانی کے لیے تحریر کیا، مگر اُس وقت کے آفس قانونگو سٹی غلام سرور نے یہ تحریر اعلیٰ افسران کو ارسال نہ کی، جس کے باعث انتقال بدستور منظور رہا۔مزید انکشاف یہ ہوا ہے کہ بعد ازاں محمد اکبر پٹواری نے فردِ ملکیت جاری کر کے تملیک رجسٹری کروائی، پھر بیع رجسٹری چلت کے ذریعے پٹوار خانے کے اس سرکاری رقبے کو فروخت کرنے کی کوشش کی گئی۔ معاملہ سامنے آنے پر اسسٹنٹ کمشنر سٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انکوائری شروع کی۔ذرائع کے مطابق یہ بہاولپور کی تاریخ میں پہلا واقعہ ہے کہ سٹی اربن ایریا میں واقع پٹوار خانہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے بعض اعلیٰ اہلکاران کی ملی بھگت سے فروخت کے مرحلے تک پہنچا۔ انکوائری کے نتیجے میں محمد اکبر پٹواری کو ڈس مس فرام سروس کر دیا گیا، جبکہ دیگر کرداروں اور مبینہ بینیفیشریز کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ چار سال بعد نظرِثانی کی رپورٹ آنے کے باوجود انتقال کو خارج کیوں نہ کیا گیا اور تاحال یہ منظور شدہ کیوں ہے؟ اس ضمن میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اور کمشنر بہاولپور فوری طور پر مداخلت کریں، سرکاری رقبہ واگزار کرایا جائے، تمام ذمہ داران کا تعین کر کے بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور انتقال نمبر 94 کو قانون کے مطابق منسوخ کیا جائے۔سابقہ پٹواری: عبدالغفور گرداور/پٹواری: رانا فاروق، خورشید ریونیو آفیسر نوید بخاری آفس قانونگو غلام سرورپٹواری: محمد اکبر (فردِ ملکیت، رجسٹری، فروخت کی کوشش — برطرف)تحقیقات جاری ہیں، جبکہ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری املاک کے تحفظ اور ریونیو نظام کی شفافیت کے لیے اس کیس کو مثال بنایا جائےاور فوجداری مقدمات درج کروائے جائیں۔







