بہاولپور: معدنیات ٹھیکیدار کا ایکسین انہار کے دفتر پر دھارا، افسروں، ملازمین پر تشدد-بہاولپور: معدنیات ٹھیکیدار کا ایکسین انہار کے دفتر پر دھارا، افسروں، ملازمین پر تشدد-لودھراں: پیرا فورس ملازمین کی دھمکیاں، ناجائز جرمانے، تاجر خوفزدہ، تحقیقات شروع-لودھراں: پیرا فورس ملازمین کی دھمکیاں، ناجائز جرمانے، تاجر خوفزدہ، تحقیقات شروع-بہاولپور: ڈی پی او آفس کی لابی نے پولیس نظام کی لنکاڈھادی،فرمائشی تعیناتیاں-بہاولپور: ڈی پی او آفس کی لابی نے پولیس نظام کی لنکاڈھادی،فرمائشی تعیناتیاں-کوہ سلیمان سمگلرز کے حوالے، ملتان، ڈیرہ سمیت بنجاب بھر میں مال سپلائی، رسمی کاروائی-کوہ سلیمان سمگلرز کے حوالے، ملتان، ڈیرہ سمیت بنجاب بھر میں مال سپلائی، رسمی کاروائی-بہاولپور میں غنڈہ راج، بااثر افراد کا باپ بیٹے پر وحشیانہ تشدد، ویڈیو وائرل، پولیس تماشائی-بہاولپور میں غنڈہ راج، بااثر افراد کا باپ بیٹے پر وحشیانہ تشدد، ویڈیو وائرل، پولیس تماشائی

تازہ ترین

بہاولپور: ڈی پی او آفس کی لابی نے پولیس نظام کی لنکاڈھادی،فرمائشی تعیناتیاں

بہاولپور (کرائم سیل) عرصہ دراز سے ڈی پی او آفس میں تعینات لابی کی سہولت کاری سے ڈی پی او کو غلط بریف کرکے فرمائشی ایس ایچ او لگانے کا بھیانک انجام سامنے آ چکا ہے، جہاں سابقہ ایس ایچ او احمد پور شرقیہ دلبر حسین نے پنجاب پولیس کے نظام پر گویا لنکا ڈھا دی۔ ذرائع کے مطابق دلبر حسین کو ایس ایچ او تعینات کروانے کے لیے ڈی پی او بہاولپور کے انٹرویو سے قبل ایک پڑھے لکھے، پروفیسر طرز کے افسر کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے بعد اسے تھانہ احمد پور شرقیہ میں تعیناتی دلوائی گئی، تاہم تعیناتی کے فوراً بعد ہی منشیات برآمدگی کی ایف آئی آرز میں مبینہ رد و بدل اور استغاثہ میں “جادو” چلانے کے سنگین الزامات سامنے آ گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دلبر حسین کی پشت پناہی کرنے والی اس مخصوص لابی نے استغاثہ میں ریلیف دلوایا، مگر اس ریلیف میں کردار ادا کرنے والے افسر کو محض سرزنش کی گئی جبکہ کسی طور پر ملوث نہ ہونے والی سیکیورٹی برانچ ملازمین کو ایک سال کی سروس روکنے کی سزا دے دی گئی، جس نے محکمہ پولیس میں انصاف اور احتساب کے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا۔صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب گزشتہ روز چوکی گوٹھ شاہ محمد میں تعیناتی کے دوران دلبر حسین کی مبینہ طور پر مقامی اسکیمرز اور گجر فیملی سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک ہوٹل میں ڈیل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس نے نہ صرف ہلچل مچا دی بلکہ دلبر حسین کو تعینات کروانے والے افسران اور ان کے سہولت کاروں کی اہلیت اور دیانت داری پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے موجودہ ڈی پی او کی جانب سے تعینات کیے گئے دیگر ایس ایچ اوز کی اہلیت پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیلڈ میں صرف ایماندار، بااصول اور میرٹ پر پورا اترنے والے افسران کو تعینات کیا جائے اور ڈی پی او بہاولپور اپنے فیصلوں پر فوری نظرِثانی کریں۔واضح رہے کہ چند روز قبل سی سی ڈی بہاولپور نے سابقہ ایس ایچ او احمد پور شرقیہ کے ملازم سراج احمد کو دو کلو آئس کی خریداری کے بعد گرفتار کیا تھا، جبکہ مبینہ طور پر ایک کرائے کے مکان سے، جسے ایس ایچ او کا ٹھکانہ بتایا گیا، تقریباً 43 کلو چرس بھی برآمد کی گئی تھی، ان مقدمات میں بھی ڈی پی او آفس کی مبینہ لابی کی سہولت کاری سے کمزور استغاثہ تیار کیے جانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں، جس کے باعث دلبر حسین کے بچ نکلنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں، تاہم حیران کن طور پر تاحال بہاولپور پولیس کی چاک و چوبند ٹیمیں بھی دلبر حسین کو گرفتار کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب، آئی جی آفس اور آر پی او آفس کی معنی خیز خاموشی نے عوامی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں