بہاولپور (کرائم سیل) محکمۂ صحت کی جانب سے ڈرگ کورٹ میں تعینات سینئر کلرک رانا جمیل نے ڈرگ کورٹ کی طرف سے گزشتہ کئی سالوں کے دوران کیے گئے کروڑوں روپے کے جرمانوں کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے خود ہضم کر لی، جبکہ ڈرگ کورٹ کے جج کو اس کا علم ہی نہ ہو سکا۔ یہ سلسلہ کئی سال تک مسلسل جاری رہا۔ ڈرگ کورٹ کے جج کی جانب سے میڈیکل اسٹوروں اور دیگر مدات میں کیے جانے والے جرمانوں کی رقم تو ملزمان سے وصول کر لی جاتی تھی، مگر اسے قومی خزانے میں جمع ہی نہیں کروایا جاتا تھا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ سینیئر کلرک افسران کی ملی بھگت سے محکمے سے چھٹی لے کر غائب ہو چکا ہے، اور ڈرگ کورٹ کی جانب سے اتنی بڑی کرپشن کے باوجود اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج کرانے کے لیے اب تک کوئی باضابطہ درخواست بھی نہیں دی گئی۔باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ڈھائی سال سے ڈرگ کورٹ میں تعینات سینئر کلرک رانا جمیل نے سینکڑوں کیسوں میں عدالت کی جانب سے میڈیکل اسٹوروں اور دیگر مدات میں کیے جانے والے جرمانوں کی رقم قومی خزانے میں جمع کرانے کے بجائے جعلی مُہریں اور دو نمبری سے جعلی دستخط کروا کر رقم اپنی جیب میں ڈال لی۔ یہ سلسلہ تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہا۔ذرائع کے مطابق سال2024 میں ہی اس کرپشن کی مالیت تقریباً ساڑھے تین کروڑ روپے بنتی ہے، جبکہ سال 2023 کے بھی متعدد مہینوں اور 2025 کے ابتدائی گیارہ ماہ کے جرمانوں میں اسی طرح کی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے شواہد سامنے آئے ہیں۔نئے جج کے تعینات ہونے کے بعد یہ سنگین معاملہ منظر عام پر آیا تو مرکزی ملزم رانا جمیل محکمۂ صحت کے چند افسران کی مبینہ پشت پناہی کے باعث چھٹی لے کر ملک سے فرار ہونے کی کوشش میں غائب ہو چکا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ محکمۂ صحت اور ڈرگ کورٹ کے کئی اہلکار بھی اس کرپشن میں ملوث ہیں اور رانا جمیل کو بچانے کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ معاملے کو التوا میں رکھ کر ملزم کو بیرونِ ملک فرار ہونے کا موقع مل سکے اور پوچھنے پر بتایا جاتا ہے کہ ابھی دو نمبری اور نقصان کی لسٹیں بنائی جا رہی ہیں اس کے بعد مقدمے کے لیے باضابطہ کاروائی کی جائے گی۔اس سنگین کرپشن نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔اس سلسلے میں مؤقف لینے کے لیے سی او ہیلتھ بہاولپور ڈاکٹر عامر بشیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سینئر کلرک تو ڈھائی سال پہلے میری پوسٹنگ سے پہلے ہی تعینات تھا۔ مکمل ریکارڈ اور تفصیلات تو ڈرگ کورٹ سے ہی معلوم ہو سکتی ہیں۔ چھٹی سیکرٹریٹ سے ہوئی ہے جبکہ اس معاملے پر محکمانہ انکوائری بھی جاری ہے جبکہ ذرائع کے مطابق اتنی بڑی کرپشن اتنی دیدار دلیری سے کرنے میں رانا جمیل کے علاوہ کئی افسران کے ملوث ہونے کے امکانات ہیں”رانا جمیل سے مؤقف لینے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔







