بہاول پور ( کرائم سیل) بہاولپور پولیس میں دفتری اثر و رسوخ، اہم تھانے بدستور من پسند سب انسپکٹروں کے پاس ،بہاولپور پولیس میں نظم و ضبط، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور دفتری اثر و رسوخ کے حوالے سے سنگین سوالات جنم لینے لگے ہیں، جہاں عملی طور پر اہم اور حساس تھانوں کی کمان بدستور چند مخصوص سب انسپکٹروں کے پاس ہی مرکوز دکھائی دیتی ہے ذرائع کے مطابق ڈی پی او بہاولپور کی جانب سے مختلف ادوار میں انتظامی ضرورت کے تحت افسران کی ذمہ داریوں میں رد و بدل کیا جاتا رہا ہے، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بعض سب انسپکٹر مسلسل بڑے اور اہم تھانوں میں بطور ایس ایچ او خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ دیگر افسران کو فیلڈ میں مؤثر کردار دینے کے بجائے محدود ذمہ داریوں تک رکھا جا رہا ہے پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی تحریری حکم کی خلاف ورزی نہیں بلکہ دفتری نظام کے اندر موجود اثر و رسوخ، فائل موومنٹ اور اندرونی سفارشات کے نتیجے میں جنم لیتی ہے، جہاں تعیناتیوں اور عملی چارج کا فیصلہ فیلڈ ضروریات کے بجائے مخصوص گروپس کی مشاورت سے طے ہوتا دکھائی دیتا ہے اطلاعات کے مطابق بعض افسران کو بار بار حساس تھانے دیے جانا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے، جبکہ دیگر سب انسپکٹرز، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مضبوط دفتری سپورٹ سے محروم ہیں، انہیں عملاً فیصلوں سے دور رکھا جاتا ہے۔ پولیس حلقوں میں یہ تاثر بھی زیر گردش ہے کہ بغیر مضبوط سفارش اور اندرونی حمایت کے کسی اہم تھانے میں بطور ایس ایچ او تعیناتی مشکل تر ہوتی جا رہی ہے عوامی و سماجی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا انہی مستقل تعیناتیوں کے باعث بعض بااثر جرائم پیشہ عناصر اور مبینہ چٹی دلالوں کے خلاف کارروائیاں مطلوبہ سطح پر کیوں نظر نہیں آ رہیں۔ اگرچہ پولیس حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں، تاہم نمایاں نتائج کی کمی نے شکوک کو مزید تقویت دی ہے دوسری جانب چند سب انسپکٹروں کے زیر استعمال لگژری گاڑیوں، عالیشان رہائش گاہوں اور دیگر قیمتی اثاثہ جات بھی عوامی بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ان افسران کے اثاثہ جات کا غیر جانبدارانہ اور شفاف آڈٹ کرایا جائے تو آمدن اور طرزِ زندگی میں فرق واضح ہو سکتا ہے شہری، سماجی اور قانونی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس اس امر کا جائزہ لیں کہ اہم تھانوں پر مسلسل ایسے افسران کی تعیناتی کے اسباب کیا ہیں، دفتری اثر و رسوخ کے کردار کا تعین کیا جائے، اور پولیس نظام کو ہر قسم کی اندرونی مداخلت سے پاک کر کے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر چلایا جائے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شفافیت اور بروقت اصلاحی اقدامات کے بغیر پولیس پر عوامی اعتماد بحال ہونا مشکل ہوگا، جس کے اثرات براہ راست امن و امان اور قانون کی عملداری پر مرتب ہوں گے ۔







