بہاولپور پولیس کے آلودہ افسروں کا کریمنلز ،چٹی دلالوں سے ملکر کردار کش گروہ بے نقاب

ملتان (قوم ریسرچ سیل) بہاولپور میں اعلیٰ پولیس افسران کی گرفت کمزور پڑتے ہی بہاولپور میں بری اور آلودہ شہرت کے حامل چند پولیس افسران نے مخصوص بدنام زمانہ کریمنلز اور ریکارڈ یافتہ چٹی دلالوں ٹاوٹوں اور رضاکاروں پر مشتمل ایک گروہ بنا رکھا ہے۔اس گروہ کا مقصد شہر کے منشیات فروشوں اور قحبہ خانوں کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ ریکارڈ یافتہ کریمنلز افراد کی ایماء پر ان کے مخالفین پر بڑی بڑی رقوم کے عوض جھوٹے مقدمات درج کروانا ہے۔ بہاولپور کے کئی صحافی بھی ان کے مظالم کا شکار ہو چکے ہیں۔ انکے خلاف آواز بلند کرنے والے صحافیوں سول سوسائٹی اور اچھی شہرت رکھنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف یہ لوگ مفلوک الحال اور ٹاوٹ صحافیوں کو استعمال کرتے ہوئے کیچڑ اچھالتے ہیں۔ اسں بارے میں قوم ریسرچ سیل نے مختلف ذرائع سے جو معلومات اور اعداد و شمار حاصل کئے ہیں ان کے مطابق ڈی ایس پی (سٹی) یونس بٹر کے خلاف صرف اس وجہ سے بے بنیاد الزامات کئے جا رہے ہیں کہ ڈی ایس پی بطور سرکل آفیسر اس گروہ میں شامل چٹی دلالوں کی جانب سے جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات درج کروانے میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں اور اس گروہ میں شامل ایک ذہنی مریض تھانیدار کو لائن حاضر کروا چکے ہیں تاکہ عوام اس غلیظ اور آلودہ ذہنیت کے بری شہرت کے حامل پولیس افسران سے محفوظ رہ سکیں جبکہ محسن سردار انسپکٹر نے اس گروہ کے مین کردار جو کہ بہاولپور کا بدنام زمانہ چٹی دلال ہے جس کا حقیقی بھائی بہاولپور کا بدنام چور ہے اور بہاولپور پولیس کو چوری کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اپنے چٹی دلال بھائی کی شہ پر اتنی دیدہ دلیری سے واردات کرتا تھا جو کہ واردات کی مختلف سی سی ٹی وی فوٹیج میں صاف دیکھا جاتا تھا مگر بااثر چٹی دلال کے اثر و رسوخ کے سامنے دیگر پولیس افسران اسے گرفتار کرنے سے کتراتے تھے مگر محسن سردار انسپکٹر نے نہ صرف اسے گرفتار کیا بلکہ اس سے مال مسروقہ برآمد کرتے ہوئے چالان کرکے جیل بھجوایا۔ سیکورٹی برانچ کے چھوٹے ملازمین پر کیچڑ اچھالنے کی جو وجوہات سامنے آئی ہیں وہ بڑی شرمناک اور افسوسناک ہیں، پولیس کے اعلیٰ افسران کے لئے اس وجہ سے لمحہ فکریہ ہے کہ ان ملازمین نے چند ہفتے قبل تھانہ سول لائن اور تھانہ صدر کی حدود میں ہوٹل کی آڑ میں چلنے والے قحبہ خانوں کی نشاندھی کی تھی جس پر دونوں تھانوں نے ان ہوٹلوں پر ریڈ کئے اور مقدمات درج کئے جن کا ریکارڈ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے ان ہوٹل نما قحبہ خانوں کے بارے میں جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق یہ قحبہ خانے اس گروہ میں شامل پولیس آفیسر کے قریبی عزیزوں کے ہیں ۔بدکاری کے ان مبینہ اڈوں کو پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے بچانا اس پولیس آفیسر کی ذمّہ داری تھی جس میں ناکامی کے بعد یہ گروہ کھل کر اچھی شہرت کے پولیس افسران سمیت صحافیوں کے خلاف کردار کشی میں مصروف ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں