بہاولپور (کرائم سیل) ضلع بہاولپور کے مختلف تھانوں میں بغیر میرٹ مخصوص لابی کی سفارش پر ایس ایچ اوز کی تعیناتی اور حالیہ منشیات برآمدگی کے سنسنی خیز واقعات کے بعد ڈی پی او بہاولپور کی جانب سے نئے تعینات کیے گئے ایس ایچ اوز کی اہلیت، تجربے اور میرٹ پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے اور ناتجربہ کار افسران کو حساس تھانوں کی کمان سونپی جا رہی ہے جو عملی میدان میں ایسے “کارنامے” سرانجام دے رہے ہیں جو محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں، جبکہ اس کے برعکس ایماندار، بااصول، میرٹ پسند اور تجربہ کار پولیس افسران برسوں سے ڈی پی او آفس میں دفتری ذمہ داریوں تک محدود ہیں جن میں سرفہرست انچارج سکیورٹی راجہ خرم ذکاء اور ریڈر ڈی پی او رانا عبدالغفار طویل عرصے سے ڈی پی او آفس میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ جنہیں فیلڈ میں تعینات کرنے کا مطالبہ اب زور پکڑتا جا رہا ہے تاکہ ان کے تجربے سے امن و امان کی بہتری ممکن ہو سکے۔یاد رہے کہ چند روز قبل ڈی پی او بہاولپور کی جانب سے متعدد نئی تعیناتیاں کی گئیں جن کے بارے میں باخبر حلقوں میں یہ بات زد عام ہے کہ ان میں سے اکثر سب انسپکٹر لگائے جانے والے ایس ایچ اوز ڈی پی او آفس میں ایک مخصوص لابی کی “خدمت” کرکے پوسٹنگ حاصل کرنے کا انکشاف ہوا ہے دریں اثناء اسی طرح کی پریکٹس گزشتہ کئی ڈی پی اوز کے ادوار میں تسلسل اور دھڑلے سے ایس ایچ اوز کی تعیناتی کے مراحل بارے بھی اطلاعات زبان زد عام ہیں۔ نئے تعینات ہونے والے ایس ایچ اوز میں سب انسپکٹر ذوالفقار علی کو انچارج چوکی لاری اڈا سے ایس ایچ او تھانہ سول لائنز، سب انسپکٹر آصف محمود کو انچارج ہومی سائیڈ خیرپور سے ایس ایچ او تھانہ عباس نگر، سب انسپکٹر افضل نواز کو تھانہ صدر بہاولپور سے ایس ایچ او تھانہ سٹی حاصل پور، سب انسپکٹر محمد اکرم عباسی کو تھانہ صدر بہاولپور سے ایس ایچ او تھانہ قائم پور، سب انسپکٹر سلیم اختر کو تھانہ مسافرخانہ سے ایس ایچ او تھانہ نوشہرہ جدید، سب انسپکٹر محمد زبیر کو انچارج چوکی شکارپوری سے ایس ایچ او تھانہ عنایتی تعینات کیے گئے۔ ان تعیناتیوں کے بعد عوامی و سماجی حلقوں میں یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا یہ ایس ایچ اوز واقعی میرٹ پر تعینات ہوئے ہیں یا نہیں اور کیا یہ افسران ڈی پی او بہاولپور کی توقعات پر پورا اتر پائیں گے؟ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ڈی پی او بہاولپور اپنے حالیہ فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں تاکہ مستقبل میں کوئی نیا ایس ایچ او محکمہ پولیس کے لیے ویسی ہی بدنامی اور پریشانی کا باعث نہ بنے جیسا کہ حالیہ دنوں میں سابق ایس ایچ او دلبر حسین کے کیس نے پورے محکمے کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا واضح مؤقف ہے کہ اگر واقعی اصلاح مقصود ہے تو تجربہ کار، ایماندار اور باکردار افسران کو فیلڈ میں لا کر تھانوں کی کمان سونپی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور محکمہ پولیس مزید بحران سے بچ سکے۔







