بہاولپور (کرائم سیل) ملک بھر کے سرکاری، نیم سرکاری و نجی اداروں، تعلیمی اداروں اور مخلوط ورکنگ سٹیشنز پر کام کرنے والی خواتین کے علاوہ دور دراز سے شہروں میں آ کر نجی سرکاری و نیم سرکاری ہاسٹلز میں رہائش اختیار کرنے والی خواتین کو ہراسمنٹ، بلیک میلنگ اور بعض اوقات بے آبرو کرنا حتیٰ کہ اجتماعی زیادتی اور تشدد کے بعد خواتین کو قتل کرنے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔اسوقت بہاولپور میں سینکڑوں کی تعداد میں سرکاری ونجی تعلیمی اداروں میں دیگر علاقوں سے تعلیم حاصل کرنے کی غرض آنے والے طلباء کے لیئے قائم پرائیویٹ ہاسٹل غیر محفوظ قرار ایس اوپیز کی خلاف ورزیاں سیکورٹی کے انتہائی ناقص انتظامات پولیس ریکارڈ کے مطابق تقریبا250کے قریب ہاسٹل مختلف علاقوں میں موجود لیکن حقائق اس سے برعکس 13سو کے قریب ہاسٹل ہونے کے انکشافات ریاض کالونی،آصف ٹاؤن،گوہیر ٹاؤن،فیصل کالونی،ون یونٹ چوک،رفیع قمر روڈ اور سٹلائیٹ ٹاؤن میں واقع ان ہاسٹل کا چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کے لیئے بھی یہ محفوظ پناہ گاہیں مختلف سکینڈل میں ملوث بری شہرت کی حامل خواتین کا بھی ہاسٹل کی آڑ میں جسم فروشی اور منشیات کے دھندے کروانے کا انکشاف ہوا ہے، قریبی آبادیوں کے لوگ شدید متاثر حکام سے سخت نوٹس لینے کی اپیل۔ رپورٹ کے مطابق تقریبا250کے قریب گرلز اور بوائز ہاسٹل رجسٹرڈ ہیں لیکن حقائق اس کے برعکس ہے اس وقت بہاولپور میں اسلامیہ یونیورسٹی ودیگر درجنوں تعلیمی ادارے سمیت آئن لائن کام کرنے والوں کو ملا کر بات کی جائے تو عوامی سروے کے مطابق 1300کے قریب ہاسٹل موجود ہیں صرف اسلامیہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے طلباء وطالبات کی تعداد تقریبا 90ہزار کے لگ بھگ ہے لہذا غیر رجسٹرڈ ہاسٹل میں اس وقت ہر قسم کے غیر قانونی کام دیکھنے کو مل رہے ہیں جس میں ان ہاسٹل میں رہائش پذیر طلباء وطالبات کو ایک منظم طریقے سے ہاسٹل کے مالکان جان بوجھ کر نشہ کے عادی ایک دو کے قریب طلباء کو بھیج دیتے ہیں جو دیگر طلباء کو بھی اس کام میں ملوث کرلیتے ہیں اس وقت سب سے زیادہ استعمال آئس اور چرس کا ہورہا ہے اور بری شہرت کی حامل ادھیڑ عمر کی خواتین نے ہاسٹل کی آڑ میں نہ صرف منشیات فروشوں کے ساتھ ملکر نشہ فروخت کروانے میں اہم کردار ادا کررہی ہیں بلکہ ہاسٹل کی آڑ میں جسم فروشی کے دھندے میں بھی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ان ہاسٹل کی ایس او پیز بالکل نہیں ہیں سیکورٹی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں قریبی مکینوں منظور احمد،شاہد،عبدالکریم،فلک شیر اور حمزہ کے مطابق ہاسٹل میں رہائش پذیر طالبات اپنی من مرضی سے رات گئے تک واپس آرہی ہوتی ہیں جس کی وجہ سے پھر مختلف قسم کے سنگین وقوعے رونما ہوتے ہیں جیساکہ گزشتہ چند ماہ قبل ہاسٹل سے تین روز تک غائب رہنے والی طالبہ کو اوباشوں نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا تھا جوکہ بعد میں اپنی سانسیں بحال نہ رکھتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملی اسی طرح سال2012میں ڈاکوں نے ون یونٹ چوک کے قریب واقع ہاسٹل میں گھس کر 9لیپ ٹاپ،8موبائل فون اور ہزاروں روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے تھے،سال2023میں ہاسٹل کے واش روم میں 20سالہ منظور احمد نامی نوجوان بھی مردہ حالت میں پایا گیا تھا،ہاسٹل کی چھت گرنے کی وجہ سے دو طالبات جاں بحق ہوگئیں تھیں ہاسٹل سے ہی ہنی ٹریپ کرکے سفید پوش شہریوں کو لوٹا جاتا ہے اس تمام تر صورتحال کے باوجود آج تک ان غیر قانونی ہاسٹل کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے بلکہ ان میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے شہریوں نے اس بڑھتی ہوئی گھمبیر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔







