بہاولپور میں پولیس اصلاحات فیل، رضاکار حاوی، ایف آئی آر سے انصاف تک مک مکا

بہاولپور (کرائم سیل)آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کی جانب سے پنجاب بھر کے تھانوں میں پرائیویٹ رضاکاروں، ٹاؤٹوں اور غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر عائد کی گئی مکمل پابندی کے احکامات بہاولپور پہنچتے ہی غیر مؤثر ہو کر رہ گئے۔ ضلع بہاولپور کی تمام تحصیلوں کے مختلف تھانہ جات میں نہ صرف پرائیویٹ افراد کی آزادانہ آمد و رفت جاری ہے بلکہ انہیں مبینہ طور پر وی آئی پی پروٹوکول بھی فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے پولیس کے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق متعدد تھانوں میں مختلف ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران نے مبینہ مک مکا کے تحت مخصوص پرائیویٹ افراد کو نہ صرف تھانوں میں بیٹھنے کی اجازت دے رکھی ہے بلکہ یہ عناصر خود کو’’رضاکار‘‘ظاہر کر کے دیگر پرائیویٹ رضاکاروں کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ یہی پرائیویٹ افراد سائلین اور پولیس کے درمیان غیر قانونی ثالثی کا کردار ادا کرتے، مالی لین دین کے ذریعے معاملات طے کرواتے اور براہِ راست تفتیشی افسران پر اثرانداز ہو کر مقدمات کی سمت بدلنے میں کردار ادا کرتے ہیں، جس سے تفتیشی عمل کی شفافیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق تھانوں میں غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پولیس آرڈر 2002، پنجاب پولیس رولز اور ضابطہ فوجداری (Cr.P.C) کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قانون کے تحت تفتیش، گرفتاری اور پولیس کارروائی صرف مجاز افسران کا اختیار ہے جبکہ پرائیویٹ افراد کی مداخلت نہ صرف محکمانہ بدعنوانی بلکہ قابلِ تعزیر جرم کے زمرے میں آتی ہے۔ آئی جی پنجاب کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے افسران سروس رولز کے تحت سخت محکمانہ کارروائی کے مستحق قرار دیے جا سکتے ہیں۔متاثرہ سائلین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ تھانوں میں موجود یہ پرائیویٹ عناصر درخواستوں، ایف آئی آر اور تفتیشی پیش رفت کو اپنے ہاتھ میں لے کر سائلین سے ناجائز مطالبات کرتے ہیں۔ کئی شہریوں نے الزام عائد کیا کہ انصاف کی فراہمی ان ٹاؤٹوں اور ان کے سرپرست پرائیویٹ رضاکاروں کی خوشنودی سے مشروط ہو چکی ہے، جس کے باعث غریب اور کمزور شہریوں کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے اور عوام کا پولیس پر اعتماد تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔صورتحال کے خلاف عوام اور سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے ڈی پی او بہاولپور سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں