بہاولپور (لیڈی رپورٹر) محکمہ پیرا سٹی بہاولپور مبینہ طور پر کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال بن کر سامنے آ گیا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق ایس ڈی ای او مجتبیٰ منظور کی سرپرستی میں ایک یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازم حافظ صائم محمود کو قواعد و ضوابط کے برعکس شعبہ حسابات جیسے حساس ترین شعبے پر بٹھا دیا گیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص نہ صرف غیر قانونی طور پر مالیاتی معاملات چلا رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر درجہ چہارم کے غریب ملازمین کی تنخواہوں میں دانستہ کٹوتیاں کر کے بھاری رقوم بٹورنے میں مصروف ہے۔ متاثرہ ملازمین کے مطابق کئی بار شکایات کے باوجود کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے محکمہ کے اندر شدید بے چینی پائی جاتی ہے اس حوالے سے ایک متاثرہ ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہماری تنخواہوں میں ہر ماہ بغیر کسی جواز کے کٹوتی کر دی جاتی ہے۔ جب ہم حساب مانگتے ہیں تو ہمیں مختلف حیلوں بہانوں سے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ ہمیں شک ہے کہ اس ساری کارروائی کے پیچھے اوپر تک ہاتھ ہیں، اسی لیے کوئی سنوائی نہیں ہو رہی ایک اور ملازم نے انکشاف کرتے ہوئے کہا حافظ صائم محمود کی اپنی ملازمت ہی عارضی ہے لیکن وہ پورے حسابات کا نظام چلا رہا ہے۔ ہمیں دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر آواز اٹھائی تو نوکری خطرے میں پڑ جائے گی حیران کن اثاثے اور شاہانہ طرز زندگی ذرائع کے مطابق حافظ صائم محمود نے مختصر عرصے میں اپنی آمدن سے کہیں زیادہ مہنگی گاڑیاں، قیمتی پلاٹس اور شاہانہ طرز زندگی اختیار کر لیا ہے جس پر شہری حلقوں میں شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک عارضی ملازم کا اس قدر اثاثے بنانا خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے شہری حلقوں اور ملازمین کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے باوجود ایس ڈی ای او مجتبیٰ منظور کی خاموشی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو وہ اس صورتحال سے چشم پوشی کر رہے ہیں یا مبینہ طور پر کرپٹ عناصر کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ سماجی رہنماؤں، متاثرہ ملازمین اور شہریوں نے کمشنر بہاولپور، محکمہ اینٹی کرپشن اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں حافظ صائم محمود کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جائے ایس ڈی ای او مجتبیٰ منظور سے وضاحت طلب کی جائے محکمہ کے مالیاتی معاملات کا مکمل آڈٹ کروایا جائے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو سرکاری خزانے کو مزید نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ غریب ملازمین کا استحصال بھی جاری رہے گا۔





