بہاولپور: محکمہ مال کی کرپشن، پولیس افسر پر مبینہ سرپرستی اور مداخلت کے الزامات

بہاولپور (سپیشل رپورٹر ) بہاولپور میں محکمہ مال کی کرپشن، پولیس افسر پر سرپرستی اور مداخلت کے سنگین الزامات بہاولپور میں محکمہ مال میں مبینہ کرپشن کے نیٹ ورک کو پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے بعض اہلکاروں کی پشت پناہی حاصل ہونے کے انکشاف سامنے آ گئے ہیں، جس پر شہری اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔تفصیل کے مطابق ڈی پی او آفس بہاولپور کے ماتحت تعینات سب انسپکٹر کاشف ندیم، جو اس وقت ایس آئی سٹی کے عہدے پر فائز ہیں، پر الزام ہے کہ وہ محکمہ مال کے کرپٹ پٹواریوں کی سرپرستی کر رہے ہیں اور اپنے سرکاری فرائض کو پس پشت ڈال کر مافیا کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ سابقہ طور پر گن مین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے، تاہم ترقی کے بعد بھی انہوں نے مبینہ طور پر محکمہ مال کے معاملات میں مداخلت کا سلسلہ ختم نہیں کیا اطلاعات کے مطابق ڈی سی آفس بہاولپور کے چند اہلکاران اور عملے کی مبینہ ملی بھگت سے محکمہ مال میں سرگرم کرپٹ مافیا کو تقویت دی جا رہی ہے، جبکہ بہاولپور میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر پر بھی محکمہ مال کے بعض کرپٹ پٹواریوں کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی سی آفس کے چند اہلکاران کی آشیر باد حاصل کرنے کے بعد راؤ کاشف ندیم کو متحرک کیا گیا، جو پولیس کے نام اور اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے مبینہ طور پر کرپشن میں ملوث مافیا اور سرکاری فیس کے غبن میں شامل اہلکاران کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے محکمہ مال کے متعدد اہلکاروں سے قریبی روابط ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کرپٹ مافیا کے خلاف درخواستیں دینے والے شہریوں اور قانونی کارروائی کرنے والوں کو مختلف حربوں، دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے خاموش کرایا جاتا ہے تاکہ کوئی مؤثر کارروائی نہ ہو سکے اور کرپٹ عناصر بلا خوف و خطر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ذرائع کے مطابق اگر کاشف ندیم کے موبائل فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) چیک کیا جائے تو محکمہ مال کے متعدد پٹواریوں سے مسلسل رابطوں کے شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ قریبی تعلقات اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے نتیجے میں انہوں نے لاکھوں روپے مالیت کے اثاثے بنا لیے ہیں شہری حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان سنگین الزامات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کر کے ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ محکمہ مال اور پولیس کا وقار بحال ہو سکے۔ اس حوالے سے راؤ کاشف ندیم سے موقف لینے کے لیے ان کے واٹس ایپ نمبر پر خبر ارسال کی گئی خبر دیکھنے کے بعد راؤ کاشف ندیم نے خاموشی اختیار کر لی اور اس خبر کے حوالے سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں