تازہ ترین

بہاولپور لینڈ ریکارڈ آفس کرپشن کا گڑھ، فرد، سٹے اور ڈیٹا فروخت کا منظم نیٹ ورک

بہاولپور (سپیشل رپورٹر ) بہاولپور لینڈ ریکارڈ آفس میں مبینہ کرپشن کے مزید سنگین انکشافات، اعلیٰ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ بہاولپور لینڈ ریکارڈ آفس سٹی میں مبینہ طور پر بدعنوانی، لوٹ مار اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اے ڈی ایل آر حدیقہ اسلم اور انچارج لینڈ ریکارڈ آفس شاہزیب کی مبینہ ملی بھگت سے عرصہ دراز سے لینڈ ریکارڈ کے نظام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔تفصیل کے مطابق لینڈ کمیشن رقبے کی فرداد جاری کرنے کے نام پر لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیںجبکہ بعض کیسز میں آن لائن فرد30 ہزار سے 50 ہزار روپے میں جاری کی جا رہی ہیں۔ موضع آغا پور، ہوت والا، ڈیرہ عزت اور راماں کے رقبے پر مبینہ طور پر بحکم اے ڈی سی آر حکمِ امتناعی لگا کر ریکارڈ میں درج کیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لینڈ ریکارڈ آفس کے عملے اور افسران کی مبینہ ملی بھگت سے لاکھوں روپے وصول کرنے کے بعد حکمِ امتناعی بغیر قانونی طریقہ کار کے ختم اور دوبارہ لگایا جاتا ہے۔ انکشاف ہوا ہے کہ کسی مجاز حکم کے بغیر اپنا انگوٹھا عارضی طور پر لگا کر سٹے کو وقتی طور پر ہٹا دیا جاتا ہے، جس کے فوراً بعد فرد جاری کر لی جاتی ہے جبکہ بعد ازاں دوبارہ انگوٹھالگا کر سٹے کو بحال کر دیا جاتا ہے اس مبینہ عمل کے عوض انچارج شاہزیب لاکھوں روپے وصول کرتا ہے جبکہ اے ڈی ایل آر حدیقہ اسلم کو بھی معمولی حصہ دیا جاتا ہے۔ اس مبینہ نیٹ ورک میں لینڈ ریکارڈ آفس کے چند اہلکار بھی شامل ہیں، جن میں محمد آصف سرِفہرست بتایا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے ریکارڈ آفس سٹی میں تعینات ہے مزید انکشاف ہوا ہے کہ محمد آصف مبینہ طور پر ریکارڈ سینٹر کا ڈیٹا اپنے موبائل واٹس ایپ کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں روپے میں فروخت کرتا ہے، جبکہ تمام لین دین اور معاملات بھی واٹس ایپ کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔ اسے ریکارڈ سینٹر کے افسران کا خاص آدمی بھی قرار دیا جا رہا ہے، جو بہاولپور کے مختلف افراد سے رابطہ کر کے فرداد لاکھوں روپے کے عوض آن لائن جاری کرواتا ہے اس سنگین صورتحال پر شہریوں نے سی او بہاولپور، کمشنر بہاولپور ڈویژن اور ڈی جی لینڈ ریکارڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائیں اور ملوث کرپٹ اہلکاروں کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو انصاف مل سکے اور لینڈ ریکارڈ کے نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔اس حوالے سے انچارج سٹی ریکارڈ سینٹر کا موقف ہے کہ آپ کی خبروں سے زیادہ سے زیادہ میرا تبادلہ ہو جائے گا، کوئی بم نہیں گرنے والا۔ جو کرنا ہے کر لو۔ تمام افسران کو معلوم ہے اور یہ پیسے میں اکیلا نہیں رکھتا جب پیسوں کی بندر بانٹ سب ہی کرتے ہیں تو آپ کی خبروں سے کیا خاک کارروائی ہونی ہے؟ اس کرپشن کے متعلق مزید سنسنی خیز انکشافات اگلے شمارے میں شائع کیے جائیں گے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں