بہاولپور (کرائم سیل،لیڈی رپورٹر)عید سے قبل بہاولپور میں مبینہ طور پر زہریلی ولایتی شراب کی تیاری، خفیہ کارخانوں اور سپلائی چین کے انکشاف نے شہریوں میں خوف پھیلا دیا۔بھٹہ نمبر 1 اسلامی کالونی ،شاہدرہ سمیت مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر شراب کی تیاری اور الکوحل سپلائی کا منظم دھندا جاری، کارروائی نہ ہونے پر کئی سوالات کھڑے ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق عید کی آمد سے قبل بہاولپور میں مبینہ طور پر زہریلی اور دو نمبر شراب کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی کا سلسلہ تیز ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں بعض عناصر بڑے پیمانے پر ولایتی شراب تیار کر کے اس کا ذخیرہ کر رہے ہیںجسے بعد ازاں مختلف ہوٹلوں اور چھوٹے شراب فروشوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی مبینہ طور پر زہریلی شراب پینے سے کئی اموات کے واقعات سامنے آ چکے ہیںتاہم اس کے باوجود اس دھندے کے خلاف مؤثر کارروائیاں نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق تھانہ کینٹ کی حدود میں بھٹہ نمبر 1 اور بھٹہ نمبر 2 کے علاقوں میں اشفاق مسیح عرف بلو، ساغر مسیح، رضا اور پرویز مبینہ طور پر شراب کی تیاری اور فروخت میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ اسی طرح اسلامی کالونی میں عدیل انور ایوب عرف ایوبہ، صفدر مسیح اور اس کا بیٹا گلو، ہیری سن، نان مسیح ولد اسلم مسیح مبینہ طور پر انگلش ولایتی شراب کے دھندے میں سرگرم ہیں۔مزید اطلاعات کے مطابق شاہدرہ کے علاقے میں یاسر مسیح بھی مبینہ طور پر اس کاروبار میں ملوث ہے اور مختلف علاقوں میں تیار شدہ شراب کی سپلائی کرتا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ افراد طویل عرصے سے اس غیر قانونی کاروبار سے وابستہ ہیں اور شہر کے مختلف مقامات تک اس کی ترسیل کرتے ہیں۔انویسٹیگیشن کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ دو نمبر اور مبینہ طور پر زہریلی شراب تیار کرنے کے لیے الکوحل کی سپلائی مخصوص ڈیلرز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق امتیاز مسیح ولد منیر مسیح اور محمد حسین مبینہ طور پر الکوحل کے بڑے ہول سیل سپلائرز میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے شراب فروش الکوحل خرید کر غیر معیاری اور خطرناک شراب تیار کرتے ہیں۔علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کاروبار کے خلاف بروقت اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو عید کے دنوں میں کسی بڑے سانحے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر زہریلی شراب تیار کرنے اور سپلائی کرنے والے عناصر کے خلاف فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔





