ملتان (قوم ریسرچ سیل)بہاولپور کے طاقتور سیاسی حلقوں کی سرپرستی میں بااثر صنعتکار چوہدری عبدالستار قانون، انسانیت اور ماحولیات تینوں کے لیے وبالِ جان بن گیا۔ محکمہ ماحولیات اور محکمہ انہار کے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے جھانگی والی روڈ پر بغیر این او سی قائم کیا گیا سالونٹ پلانٹ مقامی آبادی کے لیے خاموش قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ زہریلا دھواں، کیمیکلز ملا آلودہ پانی اور خطرناک فضلہ نہ صرف فصلوں کو برباد کر رہا ہے بلکہ انسانی جانیں بھی داؤ پر لگ چکی ہیں جبکہ متعلقہ اداروں کے افسران چیف انجینئر انہار شوکت حسین ورک اور ماحولیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات ڈاکٹر اویس ان کے خلاف نشاند ہی کے باوجود کارروائی کرنے میں بے بس مجبور اور لاچار نظر آرہے ہیں اور بااثر صنعتکار چوہدری عبدالستار کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق سالونٹ پلانٹ سے اٹھنے والا زہریلا دھواں علاقے میں سموگ اور دھند میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے جس کے باعث درجنوں افراد دمہ، سانس اور پھیپھڑوں کی موذی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد متاثرین زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ کیمیکلز ملا زہریلا پانی نہر میں چھوڑے جانے سے فصلات تباہ، آبی جانور ہلاک اور نہر کے کنارے کپڑے دھونے والی خواتین جلدی امراض اور الرجی کا شکار ہو رہی ہیں۔متاثرہ مکین محمد عظیم، محمد بشیر، اللہ وسایا اور محمد اعظم نے انکشاف کیا کہ زہریلے دھوئیں نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، سانس لینا دوبھر ہو چکا ہے اور علاج کے باوجود کوئی افاقہ نہیں ہو رہا۔ محمد اکبر نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات اور محکمہ انہار کو تحریری درخواستیں دیں، لیبارٹری رپورٹس میں زہریلا پانی ثابت ہونے کے باوجود مبینہ بھاری رشوت کے عوض این او سی جاری کر دی گئی، جس کے بعد صنعتکار دھڑلے سے زہریلا پانی نہر میں پھینک رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لیبارٹری رپورٹس موصول ہونے اور ڈپٹی کمشنر کے واضح احکامات کے باوجود افسران مبینہ طور پر بھتہ لے کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور فیکٹری کو سیل کرنے یا فوری کارروائی سے گریز کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ شہریوں نے دوٹوک اعلان کیا ہے کہ اگر فوری طور پر فیکٹری سیل کر کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو ڈی سی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔اس حوالے سے جب اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات انصر سیال سے موقف لیا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ڈپٹی ڈائریکٹر ہی جواب دیں گے۔ خاموشی، سوالات کو جنم دے رہی ہے۔







