بہاولپور صدروسٹی میں فراڈ، رجسٹرریاں پاس، خزانے کو اربوں کا نقصان، لینڈ مافیا مالا مال

بہاولپور (لیڈی رپورٹر ) بہاولپور میں رجسٹریوں کا مبینہ بڑا سکینڈل سامنے آگیا۔تحصیل صدر اور تحصیل سٹی میں بعض تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں پر بغیر موقع ملاحظہ اور بغیر پٹواری رپورٹ رجسٹریاں منظور کرنے کے سنگین الزامات ہیں جس کے باعث اربن اور رولر ایریا کی رجسٹریوں سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کے ممکنہ نقصان کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے کمشنر بہاولپور سے فوری تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے پنجاب بھر میں ریونیو افسران، جن میں تحصیلدار اور نائب تحصیلدار شامل ہیں، کو رجسٹری کرنے کے اختیارات دیے گئے تھے تاکہ عوام کو سہولت فراہم کی جا سکے اور رجسٹری کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔ تاہم بہاولپور میں ان اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق بعض ریونیو افسران نے پٹواریوں کو غیر قانونی طور پر رجسٹری محرروں کے اختیارات دیکر ان کے ساتھ مل کر ایک مبینہ نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے، جس کے تحت نہ تو رجسٹری کی مکمل پڑتال کی جاتی ہے اور نہ ہی سرکاری فیسوں کو درست طریقے سے خزانے میں جمع کروایا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض بااثر عناصر پٹواریوں سے پیشگی رپورٹ لینا بھی ضروری نہیں سمجھتے اور رجسٹری منظور ہونے کے بعد پٹواریوں کو بلا کر رپورٹ مکمل کروائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق اس مبینہ طریقہ کار کے باعث اربن اور رولر ایریاز میں ہونے والی رجسٹریوں سے حکومت کو سالانہ بڑے پیمانے پر ممکنہ نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔ الزام ہے کہ لینڈ مافیا کو کروڑوں روپے کا فائدہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ اہلکار بھی مبینہ طور پر بھاری رقوم کما رہے ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کمشنر بہاولپور کی انسپکشن ٹیمیں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی رجسٹریوں کے ریکارڈ کی مکمل پڑتال کریں تو سرکاری خزانے کو ہونے والے ممکنہ نقصان کے ٹھوس شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔یاد رہے کہ چند ماہ قبل کمشنر ملتان نے بھی ملتان ڈویژن میں رجسٹری برانچ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کی نشاندہی کے بعد کارروائی کی تھی۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ بہاولپور میں بھی اسی طرز پر انکوائری کروائی جائے تاکہ ایف بی آر اور پنجاب حکومت کی فیسوں کی مد میں ہونے والے ممکنہ نقصان کو روکا جا سکے۔اطلاعات کے مطابق بہاولپور سٹی میں غیر قانونی طور پر علی پٹواری اور صدر میں وسیم شاہد کو غیر قانونی طور پر رجسٹری محرر تعینات کیا ہوا ہے جو کہ اپنے پیٹی بھائیوں کی رپورٹوں کو اوکے کرتے ہیں اور اہم اور حساس ریکارڈ کو اپنی تحویل میں رکھے ہوئے ہیںجو کہ کسی بھی اعلیٰ افسر کا حکم نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر قانونی طور پر افسران بالا کے حکم کے بغیر نیب تحصیلداروں نے اپنے من پسند پٹواریوں کو بطور محرر لگا رکھا ہے۔شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ کمشنر بہاولپور فوری طور پر ان ریونیو افسران کا آڈٹ کروائیں، چھاپہ مار کر غیر قانونی پٹواریوں کو اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے پر ڈسمس فرم سروس کریں، اور لوٹی ہوئی دولت خزانے میں جمع کروائی جائے۔ ان پٹواریوں کے ذریعے شیڈول میں رد و بدل کر کے کم ریٹ پر رجسٹری پاس کرانے سے حکومت پنجاب کو لاکھوں روپے کا روزانہ فیصلوں کی مد میں نقصان ہو رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں