بہاولپور: شیخوین سیکشن میں کروڑوں کا ریلوے سامان غائب، مقدمے ہوئے نہ مال برآمد

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر) پاکستان ریلویزپولیس کی مبینہ غفلت اور افسرانِ بالا کی عدم توجہی کے باعث ملتان ریلوے ڈویژن کے شیخوین سیکشن میں 2024 سے 2025 تک ریلوے لائنوں سے ٹریل م بلاکس، اینگل راڈز، فش پلیٹس، سلیپرز اور ریل کے ٹکڑے چوری ہونے کے متعدد واقعات سامنے آ گئے ہیں۔ حیران کن طور پر بیشتر معاملات میں صرف تحریری درخواستیں متعلقہ تھانوں میں جمع کروائی گئیں، مگر ایف آئی آر درج کرنے اور مال برآمد کرنے کے لیے مؤثر کارروائی نہ ہو سکی۔ذرائع کے مطابق مختلف گینگ مینوں سے محض درخواستیں لکھوا کر دستخط لے لیے گئے، جبکہ مقدمہ درج کروانا اور تفتیش آگے بڑھانا متعلقہ حکام کی ذمہ داری تھی۔ مدعیان کا مؤقف ہے کہ انہیں “مورا” بنا کر کاغذی کارروائی مکمل کی جاتی رہی، لیکن عملی پیش رفت نہ ہوئی۔15 فروری 2025: کلومیٹر 84، چک نمبر 22 حمیدہ اباد کے قریب تقریباً 150 ٹرن بلاکس توڑ کر اینگل راڈز چوری کیے گئے۔ درخواست طالب حسین ولد اللہ رکھا نے تھانہ خیرپور میں جمع کروائی۔22 اگست 2024: کلومیٹر 86 سے 15 تا 20 لوہے کی راڈز نکال لیے گئیے۔ تحریری درخواست 25 اکتوبر 2024 کو جمع ہوئی۔24 اگست 2025: کلومیٹر 87 سیکشن شیخوین تا گلپور تلبانی سے ٹرن بلاکس توڑ کر راڈز چوری ہوئیں، درخواست غلام قادر ولد احمد یار نے دی۔10 جولائی 2025: کلومیٹر 64 چک نمبر 25 اسرانیہ سے تقریباً 30 سلیپر توڑ کر اینگل راڈز نکال لی گئیں۔27 جون 2025: کلومیٹر 62 بورے شاہ مرلے سیکشن خیرپور ٹامے والی سرانی سے 35 سلیپر توڑ کر سامان نکالا گیا، درخواست عطا محمد غلام فرید نے جمع کروائی۔4 جولائی 2024: کلومیٹر 54-55 سے 15 عدد فش پلیٹس چوری ہونے کی درخواست محمد صدیق ولد محمد دین نے دی۔اگست 2025: محمد ارشد ولد اللہ وسایا نے 80 عدد ٹرن بلاکس توڑ کر راڈز چوری ہونے کی اطلاع دی۔8 دسمبر 2025: گلپور تلبانی شیخوین کے علاقے چک حمیدہ آباد سے 50 سلیپرز کے اینگل راڈ نکال لیے گئے۔مزید برآں، اطلاعات کے مطابق دو مقامات سے 15 فٹ اور 12 فٹ ریل کے ٹکڑے بھی چوری ہوئے۔ مجموعی طور پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے مالیت کا ریلوے سامان غائب ہو چکا ہے، مگر دو سال گزرنے کے باوجود خاطر خواہ برآمدگی عمل میں نہ آ سکیریلوے پولیس کے دائرہ اختیار کے باوجود درخواستیں مقامی تھانوں میں کیوں دی گئیں؟ایف آئی آر درج نہ ہونے اور تفتیش آگے نہ بڑھنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟جبکہ اے ای این لودررا نے اس چوری شدہ سامان کی بابا عملی کاروائی عمل میں نالائی صرف جمع زبانی خرچ کرتے رہے اور نہ ہی ریلوے میٹریل آج تک برامد کروایا گیاافسرانِ بالا نے فیلڈ وزٹ اور انسپکشن کیوں نہ کی؟متاثرہ گینگ مینوں اور شہری حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی قائم کی جائے، ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور کروڑوں روپے مالیت کا چوری شدہ سامان برآمد کر کے قومی خزانے کو نقصان سے بچایا جائے۔تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں