بہاولپور (کرائم سیل) سیف سٹی کیمرے ،سی سی ڈی اور تھانہ صدر پولیس ناکام، بہاولپور کے پوش علاقوں میں خواتین پر مشتمل بے ہوش کر کے لوٹنے والا گروہ بے لگام ہوگیا۔ خیابانِ علی ہاؤسنگ سکیم میں 50 لاکھ کی واردات، دو ہفتے گزرنے کے باوجود پولیس تلاش کرنے میں ناکام ،اسی پیٹرن کی متعدد وارداتوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز روزنامہ قوم کو موصول، مدعی کا خصوصی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بہاولپور کے پوش علاقوں میں گھروں میں داخل ہو کر خواتین کو مختلف حیلوں بہانوں سے بے ہوش کر کے سونا، نقدی اور قیمتی سامان لوٹنے والی خواتین پر مشتمل منظم گروہ کی سرگرمیاں تشویشناک حد تک بڑھ گئیں، تاہم دو ہفتے گزرنے کے باوجود تھانہ صدر کی پولیس خیابانِ علی ہاؤسنگ سکیم میں ہونے والی پچاس لاکھ روپے مالیت کی بڑی واردات کو ٹریس کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔تفصیلات کے مطابق دسمبر کے اوائل میں خیابانِ علی ہاؤسنگ سکیم، علاقہ تھانہ صدر میں ایک انوکھی مگر خطرناک واردات پیش آئی، جہاں دو خواتین پیدل گھروں میں داخل ہوئیں اور بچوں کو پڑھانے کے بہانے مختلف گھروں میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ متعدد گھروں میں ناکامی کے بعد مذکورہ خواتین ایک سرکاری ادارے کے ریٹائر ملازم کے گھر داخل ہونے میں کامیاب ہو گئیں، جہاں انہوں نے گھریلو خاتون کو مبینہ طور پر بے ہوش کر کے ساڑھے چودہ تولہ سونا، بھاری نقد رقم اور دیگر قیمتی سامان لوٹ لیا اور موقع سے فرار ہو گئیں۔واردات کو دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر پولیس نہ تو ملزمان تک پہنچ سکی اور نہ ہی شہری کا لوٹا گیا مال برآمد کیا جا سکا، جس پر علاقہ مکینوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ خواتین پر مشتمل یہ گروہ انتہائی منظم اور ٹیکنیکل انداز میں وارداتیں کر رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گروہ کسی بڑے نیٹ ورک کا حصہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب روزنامہ قوم کو بہاولپور سٹی سرکل کے مختلف علاقوں میں ہونے والی اسی نوعیت کی وارداتوں کی متعدد سی سی ٹی وی فوٹیجز موصول ہو چکی ہیں، جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہی خواتین مختلف مقامات پر گھروں کے باہر گھومتی ہیں اور مناسب موقع دیکھ کر واردات کو انجام دیتی ہیں۔ فوٹیجز میں خواتین کا حلیہ، واردات کا طریقہ کار اور نقل و حرکت واضح ہے، جس کے باوجود پولیس کی جانب سے پیش رفت نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ خواتین کسی اور شہر سے بہاولپور آئی ہیں اور یہاں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت وارداتیں کر رہی ہیں، جبکہ پولیس مختلف قیاس آرائیوں اور دعوؤں تک محدود دکھائی دیتی ہے۔واردات کے مدعی محمد شبیر نے روزنامہ قوم کے توسط سے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین پر مشتمل اس خطرناک وارداتی گروہ کی گرفتاری کے لیے فوری طور پر ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے، جو جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور خفیہ ذرائع کی مدد سے ملزمان کو قانون کی گرفت میں لے اور شہریوں کے لوٹے گئے مال کی ریکوری کو یقینی بنائے۔شہریوں نے بھی ڈی پی او بہاولپور اور آر پی او سے فوری نوٹس لینے، پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور بہاولپور کے پوش علاقوں میں بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پانے کا مطالبہ کیا ہےتاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔







