بہاولپور سٹی میں تعینات پٹواری کی مبینہ کرپشن، سرکاری زمین پردکانیں تعمیر

بہاولپور (ڈسٹرکٹ رپورٹر)بہاولپور سٹی میں تعینات پٹواری محمد علی کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق موصوف نے مبینہ طور پر رجسٹریوں کے معاملات میں غیر معمولی اثر و رسوخ قائم کر رکھا ہے اور سرکاری ریکارڈ کو پرائیویٹ افراد کے حوالے کر کے دن بھر رجسٹریوں کے عمل میں مصروف رہتے ہیں۔اور ریونیو افیسر سٹی کی اشیر باد امنہ جنجوا کا نام نہاد رجسٹری محرر تعینات ہےشہری حلقوں کا کہنا ہے کہ فردِ ملکیت اور متعلقہ رپورٹس کی تیاری کے لیے سائلین سے مبینہ طور پر ہزاروں روپے وصول کیے جاتے ہیں، جبکہ رقم ادا نہ کرنے والوں کی فائلیں روک لی جاتی ہیں اور خود رجسٹری کروانے کا کہا جاتا ہے جس پر سائل خوار ہو کر منہ مانگی رقم دیکھ کر اپنی رجسٹریاں کرواتے ہیں۔ مزید یہ کہ محمد علی پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری زمین پر دوکانات تعمیر کروا رکھی ہے اور مبینہ طور پر ریونیو افسران کی آشیر باد سے روزانہ کی بنیاد پر خطیر آمدن حاصل کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق موصوف کا تعلق پہلے محکمہ پولیس سے رہا ہے اور محکمہ مال میں تعیناتی کے بعد بھی وہ مبینہ طور پر اثر و رسوخ اور دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ متعدد پٹواریوں کے تبادلوں کے باوجود محمد علی بدستور اپنے حلقے میں تعینات ہے اور سیاسی پشت پناہی کے باعث افسران بھی کارروائی سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔میڈیا میں خبر شائع ہونے کے بعد بھی مبینہ طور پر موصوف نے اپنے قریبی حلقوں میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ “میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا”، جس پر شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور، اسسٹنٹ کمشنر سٹی اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔تاحال متعلقہ افسران کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔جبکہ پٹواری حلقہ نے بتایا کہ میری تعیناتی سے پہلے سرکاری زمین میں دکانات تعمیر تھیں میں نے تعمیر نہیں کروائی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں