بہاولپور ( سپیشل رپورٹر ) بہاولپور ریلوے سٹیشن پر ٹکٹوں کی غیر قانونی خرید و فروخت اور بلیک میں فروخت کیے جانے کا بڑا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ دھندہ منظم انداز میں کئی عرصہ سے جاری ہے اور اس میں اجمل نائی، اللہ وسیا عرف شملہ، اور عبدلرحمان نامی افراد کے ملوث ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے تفصیل کے مطابق ان افراد کا طریقہ واردات نہایت چالاکی سے ترتیب دیا گیا ہے۔ مختلف ریلوے سٹیشنز سے مختلف شناختی کارڈز پر ٹکٹ خریدے جاتے ہیں اور انہیں بہاولپور ریلوے سٹیشن کے احاطے میں قائم فیضان سویٹس قریب موجود چائے ہوٹل اور اجمل نائی کی اپنی دکان پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔ بعد ازاں جب ٹرینوں میں رش زیادہ ہوتا ہے یا اچانک مسافروں کو فوری ٹکٹ درکار ہوتے ہیں تو یہی ٹکٹ ان خفیہ پوائنٹس سے نکال کر مہنگے داموں فروخت کر دیے جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ غیر قانونی عمل صرف شہریوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف نہیں بلکہ مسافروں کو قانونی و سیکیورٹی مسائل سے بھی دوچار کرتا ہے۔ کیونکہ کسی دوسرے کے نام اور شناختی کارڈ پر لی جانے والی ٹکٹ پر ٹریول انشورنس خود بخود ختم ہو جاتی ہے، جس کے باعث حادثات یا ہنگامی حالات میں متاثرہ مسافر کو کسی قسم کا قانونی یا مالی تحفظ نہیں ملتا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس غیر قانونی دھندے میں ریلوے کے بعض بااثر اہلکاروں کی مبینہ چشم پوشی بھی شامل ہے، جن کی خاموشی کے باعث یہ کاروبار نہ صرف پھل پھول رہا ہے بلکہ عام مسافروں کے لیے ٹکٹ حاصل کرنا دن بہ دن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے شہریوں نے وفاقی وزیر ریلوے اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر بہاولپور ریلوے اسٹیشن پر چھاپے مار کر اس منظم ٹکٹ بلیک مافیا کو گرفتار کیا جائے، ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور عام مسافروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
