آج کی تاریخ

بہاولپور: جرائم پیشہ خواجہ سراؤں کی بستی شراب و شباب دستیاب، شہر یرغمال، پولیس لاتعلق

بہاولپور (افتخار عارف سے) شی میل،فی میل یا سی سی ڈی کے ڈر سے اپنی جنس تبدیل کرنے والے جرائم پیشہ اور اشتہاری تھانہ سول لائن کی جو کہ لاری اڈا کی حدود بسم اللہ کالونی میں بظاہر مردوں کی جسامت رکھنے والے درجنوں نہیں سینکڑوں افرادخواجہ سرائوں کے روپ میں رہائش پذیر ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ضلعی پولیس سکیورٹی برانچ اور سپیشل برانچ سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کی موجودگی سے نہ صرف لاعلم ہیں بلکہ یہ افراد بغیر کسی رجسٹریشن کے ان علاقوں میں مکانات کرائے پر لے کر رہائش پذیر ہیں جنہوں نے پورے شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے گزشتہ سے پیوستہ رات بھی ان خواجہ سرائوںکے گروہ کی ایک جوڑی جو شراب کے نشے میں دھت تھے نے سرکلر روڈ پر ایک فیملی کو پیسے نہ دینے پر ان پر حملہ کیا اور میڈیکل سٹور پر بھی ہنگامہ کیا بہاولپور پولیس ان کے خلاف کارروائی کرنے میں بے بس نظر آرہی ہے۔تفصیلات کے مطابق بہاولپور میں ایک ہولناک انکشاف نے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ لاری اڈا کے عقب میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں جرائم پیشہ افراد گروہ در گروہ بڑے بڑے مکانات کرائے پر لے کر رہائش پذیر ہیں۔ یہ عناصر کبھی اپنے آپ کو فیمیل، کبھی شی میل اور کبھی دیگر روپ میں ظاہر کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ پولیس، سپیشل برانچ اور سیکیورٹی ادارے تک ان کے اصل عزائم سے لاعلم ہیں۔اہلِ علاقہ کے مطابق چند لالچی مکان مالکان نے زیادہ کرایہ وصول کرنے کے لالچ میں اپنے گھر ان افراد کے حوالے کر دیے، جہاں اب شراب نوشی، نشہ بازی اور فحاشی کے اڈے قائم ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اب نہ خواتین محفوظ ہیں، نہ ہی سکول و کالج کے طلبہ و طالبات اور نہ ہی پردیسی مسافر!چشم کشا انکشافات یہ بھی سامنے آئے ہیں کہ یہ گروہ بچوں کو ورغلا کر اپنے ٹھکانوں پر لاتے ہیں، ان سے زیادتی اور بلیک میلنگ کرتے ہیں۔ لاری اڈا پر آنے والے مسافروں کو بھی جال میں پھنسا کر لوٹا جاتا ہے اور بعدازاں پولیس کا خوف دلا کر بھگا دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق چند پولیس اہلکار بھی ان گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ میں شامل ہیں اور باقاعدہ حصہ وصول کرتے ہیں۔مزید خطرناک پہلو یہ ہے کہ ان مکینوں کا کوئی باضابطہ ریکارڈ نہ مقامی تھانے میں ہے اور نہ ہی کسی سیکیورٹی ادارے کے پاس! اس سے شبہ ہے کہ ان میں سے متعدد افراد مختلف اضلاع کے اشتہاری مجرم ہیں۔سوشل میڈیا پر بھی یہ گروہ سرگرم ہیں۔ فیس بک اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں اور عیاش مزاج افراد کو جال میں پھنسا کر غیر فطری حرکات پر مجبور کیا جاتا ہے اور پھر انہیں بلیک میل کر کے بھاری رقوم اینٹھ لی جاتی ہیں۔ حال ہی میں تھانہ بغداد الجدید میں درج ایک گینگ ریپ کیس میں میڈیکل رپورٹ نے سب کو چونکا دیا، جب “متاثرہ” شی میل” دراصل مرد نکلا!25 اگست 2025 بوقت 9 بجے بہاولپور کی میڈیسن مارکیٹ، سرکلر روڈ (بالمقابل بی وی ایچ ہسپتال) میں ایک اور افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ ایک فیملی ادویات خریدنے کے لیے کار روک کر فارمیسی پر رکی۔ جیسے ہی نوجوان گاڑی سے اترا، قریب گھومنے والے نام نہاد خواجہ سرا آگئے اور رقم کا مطالبہ کرنے لگے۔ انکار پر انہوں نے تلخ کلامی شروع کی اور نوجوان کو گالیاں دینے لگے۔ اسی دوران ان کے نشے کی حالت میں موجود ساتھی بھی پہنچ گئے اور فیملی پر جوتیاں اور دھمکیاں برسانے لگے۔میڈیکل اسٹور کے عملے اور دیگر گاہکوں نے بڑی مشکل سے فیملی کو بچا کر گاڑی میں بٹھایا اور روانہ کیا۔ تاہم فیملی کے جانے کے بعد خواجہ سراؤں نے فارمیسی پر دھاوا بول دیا۔ کپڑے اتارنے، گالم گلوچ اور غلیظ حرکات کے ذریعے ماحول کو شدید پراگندہ کر دیا۔اہلِ علاقہ اور میڈیکل مارکیٹ کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے سامنے ایسے شرانگیز مناظر نہ صرف مریضوں اور تیمارداروں کے لیے اذیت ناک ہیں بلکہ شہریوں کے جان ومال کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اگر بروقت ایکشن نہ لیا گیا تو کسی دن کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔بسم اللہ کالونی اور اردگرد کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری سرچ آپریشن کر کے ان جرائم پیشہ گروہوں کا ریکارڈ جمع کیا جائے اور ناجائز سرگرمیوں میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔ بصورتِ دیگر بہاولپور کا پرامن ماحول تاراج ہو جائے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بہاولپور میں گزشتہ چند ماہ کے دوران شی میل و ہجڑوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جو ان کی مشکوک سرگرمیوں اور سنگین جرائم میں ملوث ہونے کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں