بہاولپور (کرائم سیل) بی آئی ایس پی فرنچائزی مستحسن اور سراج جو لودھراں کے رہائشی ہیں بہاولپور سٹی سرکل میں اپنے ریٹیلرز کے ذریعے کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح فرنچائزی اسحاق مجاورجو اوچ شریف کا رہائشی ہےبہاولپور صدر سرکل میں تقریباً 200 سے زائد ریٹیلرز کے ساتھ منسلک ہے۔ یہ ریٹیلرز بی آئی ایس پی کی مختلف ڈیوائسز کے ذریعے مستحقین کی رقوم نکلوانے کا عمل انجام دیتے ہیں اور ان میں سے مبینہ طور پر ناجائز کٹوتیاں کرتے ہیں۔ان تمام ریٹیلرز کو مبینہ طور پر اسحاق مجاور کی جانب سے لیڈ کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے، بی آئی ایس پی اور ایچ بی ایل فرنچائز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معاملات بھی اسحاق مجاور ہی طے کرتا ہے۔ انہی معاملات کے باعث بہاولپور ضلع میں بیشتر ریٹیلرز بلا خوف و خطر مستحق خواتین کی رقوم سے غیر قانونی کٹوتیاں کر رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مبینہ ڈیل کے بدلے انہیں ڈھیل ملتی ہے اور ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ غیر قانونی کٹوتیوں کے باوجود متعلقہ ادارے مبینہ طور پر بھاری رقوم لے کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مزید ذرائع کے مطابق ہر قسط شروع ہونے سے پہلے تمام فرنچائز ہولڈرز اپنے ٹاؤٹس، ایجنٹوں اور سہولت کاروں کے ذریعے متعلقہ اداروں سے مبینہ طور پر غیر قانونی کٹوتیوں کے لیے معاملات طے کرتے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اسحاق فرنچائزی ہر قسط کے آغاز سے قبل اپنے ماتحت تمام ریٹیلرز سے فی کس ایک لاکھ روپے وصول کرتا ہے، جو مجموعی طور پر لگ بھگ دو کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس رقم میں سے ایک مخصوص حصہ مبینہ طور پر ایف آئی اے کے چند کرپٹ افسران سے طے شدہ معاملات کے تحت دیا جاتا ہے، جبکہ بی آئی ایس پی دفتر کے بعض کرپٹ افسران سے بھی انہی غیر قانونی کٹوتیوں کا کمیشن طے کیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بعض اہلکار یہ کمیشن پیشگی وصول کرتے ہیں۔اسی وجہ سے بہاولپور ضلع میں بیشتر ریٹیلرز مستحق لاکھوں خواتین سے غیر قانونی طور پر فی کس ایک ہزار سے پندرہ سو روپے تک کٹوتی کر رہے ہیں۔ اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی بھی کی جاتی ہے تو وہ مبینہ طور پر صرف رسمی یا فرضی ہوتی ہے، اور اکثر پہلے ہی اطلاع دے دی جاتی ہے۔ ملازمین پر مقدمات درج کیے جاتے ہیں، جبکہ ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمات میں بھی مبینہ طور پر مکمل سہولت کاری فراہم کی جاتی رہی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس حوالے سے تمام تر تفصیلات اور شواہد جلد منظرِ عام پر لائے جائیں گے۔







