بہاولپور (کرائم سیل)روزنامہ قوم ایک مرتبہ پھر بن گیا مظلوم خاندان کی آواز۔ تھانہ صدر کی حدود سے چھ سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کو تین روز گزر جانے کے باوجود مقامی پولیس کوئی سراغ نہ لگا سکی کی خبر شائع ہونے پر ڈی پی او بہاولپور کا سخت ایکشن، ڈی ایس پی صدر سمیت ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو طلب کر کے مقدمے کی پیش رفت پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ڈی پی او نے ایس پی انویسٹی گیشن سید جمشید شاہ کی نگرانی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے کر جلد از جلد بچی کو بازیاب کرانے کے احکامات جاری کر دیے۔پولیس نے فوری ایکشن میں آتے ہی متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لیکر ڈی ایس پی صدر خود مشتبہ افراد سے تفتیش کر رہے ہیں جبکہ سی سی ڈی افسران نے روزنامہ قوم کے بچی کی گمشدگی کا مسئلہ اجاگر کرنے پر سی سی ڈی صدر سرکل کو مقامی پولیس کی مکمل معاونت کے احکامات جاری کردیے جس کے بعد سی سی ڈی اہلکاروں نے بچی کی تلاش کے لیے باقاعدہ کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق بچی کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز روزنامہ قوم نے خبر شائع کی تھی کہ تھانہ صدر کی حدود میں چھ سالہ منتشاہ بی بی سکول پڑھنے کے لیے گئی، اس کا بستہ تو واپس آ گیا مگر تین روز گزرنے کے باوجود پولیس بچی کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔جس پر ڈی پی او بہاولپور نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایس پی انویسٹی گیشن کی نگرانی میں صدر سرکل کے ایس ایچ اوز،آئی ٹی ایکسپرٹ اور سیکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی۔ڈی پی او نے ہدایت دی کہ تمام تر وسائل بروئے کار لا کر بچی کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے جس کے بعد پولیس نے علاقے سے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک بچی کے متعلق کوئی سراغ نہیں مل سکا، نہ ہی کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج یا ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں۔پولیس نے مختلف زاویوں سے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔والدین اور اہلِ علاقہ کے مطابق سکول انتظامیہ کا رویہ شروع سے مشکوک ہے۔ ان کے بقول بچی کے لاپتہ ہونے کے بعد سکول انتظامیہ نے متضاد بیانات دیے، پمفلٹ بنوائے اور ورثا کو موٹر سائیکلوں میں پٹرول کے پیسے دے کر علاقے میں چسپاں کرنے کا کہا۔مزید یہ کہ پمفلٹس میں سکول نے بچی کے سکول سے جاتے ہوئے گمشدہ ہونے کا ذکر کیا، جس سے والدین اور علاقہ مکینوں کے شکوک مزید بڑھ گئے۔ذرائع کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ایس او پیز کے تحت ہر سکول میں سکیورٹی گارڈ اور سی سی ٹی وی کیمرے لازمی ہونا چاہیےاور جس جگہ سٹوڈنٹس اور استاد موجود ہو وہاں کیمرہ لازمی ہونا چاہیے۔مگر حیران کن طور پر سکول انتظامیہ بچی کے لاپتہ ہونے جیسے بڑے واقعے کے باوجود اندرونی فوٹیج فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔والدین۔کے مطابق سکول انتظامیہ نے بار بار اپنا موقف تبدیل کیاکبھی کہا کہ کیمرے موجود نہیں تھے، کبھی کہا کہ خراب تھے وغیرہ وغیرہ۔سکول سے بچی کے گم ہو جانے کے واقعے کے بعد بچی کے والدین اور ورثاء سمیت اہل علاقہ غمگین ہیں ہر آنکھ اشکبار ہے اور بچی کی سلامتی کے لیے دعائیں کر رہی ہے جبکہ اہلِ علاقہ کا مطالبہ ہے کہ سکول انتظامیہ کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے۔دوسری جانب روزنامہ قوم میں مظلوم خاندان کی آواز بننے پر بہاولپور کے سماجی حلقوں، تاجر تنظیموں اور شہریوں نے سوشل میڈیا پر پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ بچی کو فی الفور بازیاب کرایا جائے اور واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔







