بہاولپور اوقاف اراضی معاملہ،ڈی ایچ اے گیٹ لگنے پر ویلیو آسمان پر، یوسف رضا گیلانی کا ہاتھ نکلا

ملتان (قوم ریسرچ سیل) موضع آغا پور تھانہ سمہ سٹہ لاٹ نمبر9،10،15،16،21،22،23جو کہ 112 ایکڑ رقبہ بنتا ہے جبکہ کل رقبہ 447 ایکڑ 4 کنال اور 16 مرلے محکمہ اوقاف کی ملکیت ہے۔ 1972 سے محکمہ اوقاف کے اس رقبے 112 ایکڑ پر سیکڑوں لوگ الاٹمنٹ کروا کر رہائش پذیر ہیں اور باقی رقبے پر لوگ الاٹمنٹ کروا کر کاشتکاری کر رہے ہیں۔ محکمہ اوقاف کی اسی زمین کے متعلق زرعی اصلاحات کے پیش نظر عدالت نے کاشتکاروں کے نام پر کرنے کی ڈائریکشن بھی دے رکھی ہے اور یہ لوگ باقاعدگی سے محکمہ اوقاف کو واجبات بھی ادا کر رہے ہیں مگر بدقسمتی سے ڈی ایچ اے کا ایک گیٹ اس سائیڈ پر بننے کی وجہ سے اس زرعی رقبے کی مالیت کئی گنا بڑھ جانے کی وجہ سے بااثر افراد کی نظر اس سرکاری رقبے پر پڑی اسی وجہ سے گیم پلٹی اور محکمہ اوقاف کے ذرائع کے مطابق چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپنے فرنٹ مین حبیب گیلانی کے ساتھ مل کر محکمہ اوقاف کے افسران کی ملی بھگت سے 112 ایکڑ رقبہ شمائلہ حنیف کے نام پر الاٹ کروا لیا جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے وہ ایک بیوروکریٹ کی اہلیہ ہیں اور حبیب گیلانی نے رقبہ غریبوں سے چھیننے کے لیے پیروی شروع کر دی اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور پر دباؤ ڈالا گیا کہ رقبے کو خالی کروا کر دیا جائے جس پر ڈپٹی کمشنر نے محکمہ اوقاف کے ذریعے رقبہ خالی کروانے کی کوشش کی اور مزاحمت پر عباس علی گرداور محکمہ اوقاف کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 861/24 بجرم بی324/506 148/149186/379 ت پ مورخہ 30 نومبر کو تھانہ سمہ سٹہ میں درج کروایا۔ اس مقدمے کے بعد وہاں کے رہائشی مقامی لوگوں نے ایک ایم پی اے کے ساتھ لے کر ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے ملاقات کی اور یہ طے ہوا کہ ابھی گھر نہیں گرائے جائیں گے اور کچھ دن کا ٹائم دیا۔ اس کے بعد ڈی پی او بہاولپور کی مدد سے اس بستی کو خالی کروانے کے لیے کوشش کی گئی مگر ذرائع کے مطابق ڈی پی او بہاولپور اس قسم کے ظالمانہ آپریشن کے حق میں نہ تھے کیونکہ اس سے سینکڑوں لوگ بے گھر ہو جاتے۔ مگر ڈپٹی کمشنر بہاولپور ڈاکٹر فرحان فاروق طاقتور سیاسی شخصیات کے آگے ڈھیر ہو چکے تھے اور پولیس کی بھاری نفری اے سی سٹی امیر تیمور، اے سی صدر شکیل سرور، احمد شیر گوندل اے سی صدر حاصل پور زونل ایڈمنسٹریٹر اوقاف عمران تبسم، منیجر
اوقاف غلام فرید محکمہ اوقاف کے گردار پٹواری اور پولیس کی بھاری نفری ایلیٹ سمیت بستی خالی کروانے کے لیے یکم دسمبر کو موضوع آغاپور گئے اور ایک سائیڈ سے آپریشن شروع کیا ۔رہائشی لوگوں نے بتایا کہ ابھی تو معاملات ڈپٹی کمشنر کے ساتھ طے ہوئے تھے جس پر محکمہ اوقاف اور ضلعی انتظامیہ نے پولیس کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور پولیس سے مزاحمت کرنے والوں پر تشدد شروع کروا دیا جس کے بعد بستی کے رہائشی لوگوں نے مساجد میں اعلان کروانے شروع کر دیئے کہ پولیس والے ہمارے گھروں کو بھی توڑ رہے ہیں اور خواتین پر تشدد بھی کر رہے ہیں جس کے بعد پوری بستی کے لوگ اکٹھے ہو گئے اور پولیس ملازمین کے ساتھ مزاحمت شروع کر دی جس دوران کئی پولیس ملازمین زخمی بھی ہوئے اور وہاں سے پولیس بھاگ گئی جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ضلعی انتظامیہ نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایس ایچ او سمہ سٹہ کی مدعیت میں بزرگوں اور خواتین پر مقدمہ درج کروا دیا اور گزشتہ روز پولیس کی بھاری نفری اے ایس پی صدر اور ڈی ایس پی سٹی کی قیادت میں مقدمہ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لئے گئی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں