بہاولپور (کرائم سیل)تھانہ صدر کی حدود دھوبی گھاٹ، چھوٹا بندرہ ، غریب آباد اور شاہدرہ میں منشیات فروش افضل عرف اجی چنڑ اور اس کے بھائی اجمل اور شان نے اپنے دیگر رشتہ داروں ملک پاپا چنڑ، ملک فیاض چنڑ اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر منشیات فروشی کا ایک ایسا مضبوط نیٹ ورک قائم کر رکھا ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کارروائی کرنے میں بے بس، مجبور اور لاچار نظر آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دہائیوں سے منشیات فروشی میں ملوث اس گروہ کے خلاف جب بھی کارروائی کی جاتی ہے چاہے تھانہ صدر پولیس کرے یا کسی دوسرے تھانے کی جانب سے کارروائی ہوتو یہ افراد پولیس کی مبینہ سہولت کاری سے چھوٹے مقدمات میں چالان ہو کر باآسانی رہا ہو جاتے ہیں۔ ان کی گرفتاری سے نہ ان کا کاروبار بند ہوتا ہے اور اگر ہوتا بھی ہے تو محض جزوی طور پر۔درجنوں مقدمات میں چالان یافتہ یہ منشیات فروش ایک ایسا مربوط اور مضبوط نیٹ ورک بنا چکے ہیں کہ علاقے میں اپنی اصلِ طاقت(حقیقی بدنامی و اثرورسوخ) کی بنیاد پر لوگوں کو اسلحے کے زور پر ڈرا دھمکا کر خاموش کروا دیتے ہیں۔عینی شاہدین اور اہل علاقہ کے مطابق مقامی تھانے کے چند رضاکار اور پولیس میں موجود چند کالی بھیڑوں کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی افسر کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی تیاریاں کی جاتی ہیں تو انہیں پہلے سے اطلاع دے دی جاتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس گروہ نے مقامی تھانہ میں اپنے مخبر بھی مقرر کر رکھے ہیں۔معقول ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک اس وقت چرس، افیون، آئس اور ہیروئن کے بڑے بڑے ڈیلروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور سرعام اسلحے کے زور پر منشیات فروشی میں ملوث ہے، جس کی وجہ سے اہل علاقہ شدید پریشانی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔متعدد بار نشاندہی کے باوجود ان کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے کے باعث علاقے کے کئی گھرانے تباہ ہو چکے ہیں۔ نوجوان نسل خصوصاً طلبہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو کر اپنا مستقبل برباد کرتی جا رہےہیں۔اہل علاقہ نے ڈی پی او بہاولپور سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے نیٹ ورک کے خلاف موثر، شفاف اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات جیسے ناسور سے بچایا جا سکے۔







