بہاولپور آن لائن آفس میں جعلی ریڈ یا اصلی واردات؟ ایک ماہ بعد گرفتاریاں

بہاولپور (کرائم سیل)تھانہ صدر کی حدود رحیم ٹاؤن میں آن لائن کام کرنے والے ایک دفتر میں پیش آنے والے مبینہ واقعہ کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آ گئے ہیں۔ مدعیان کے مطابق دفتر میں ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کی واردات پیش آئی جبکہ پولیس اس واقعہ کو آن لائن کاروبار سے جڑے لین دین کا تنازع قرار دے رہی ہے۔ جبکہ آزاد ذرائع وقوعہ کو جعلی ایجنسیوں کا اہلکار بن کر لوٹ مار کرنے والے گروہ کے امکانات کو بھی رد نہیں کر رہے۔واقعہ کے بعد تھانہ صدر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ بعد سخاوت اور شہروز کو حراست میں لے لیا ہےجبکہ مزید تفتیش جاری ہے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔تفصیلات کے مطابق مورخہ 24 نومبر کو محمد سردار ولد نذیر احمد نے تھانہ صدر میں مقدمہ نمبر 1815/25 درج کرواتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ مورخہ 23 نومبر کو رات تقریباً 10 بج کر 45 منٹ پر اس کے بھائی نے اطلاع دی کہ ان کے بھائی محمد شہزاد کو پانچ سے چھ نامعلوم ملزمان اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ مدعی کے مطابق ملزمان جاتے ہوئے چار عدد لیپ ٹاپ، پانچ عدد موبائل فون، ایک خاتون کا پاسپورٹ، محمد شہزاد کا پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور بینک کارڈز بھی ساتھ لے گئے۔جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 342/382 ت پ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جبکہ اغوا کی دفعات بعد میں شامل کی گئیں حالانکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو اغوا کر کے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔مدعی کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان کس منظم انداز میں دفتر میں داخل ہوئے، جنہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی سرکاری اہلکار کسی مقام پر ریڈ کرنے کے لیے آئے ہوں۔ایک ماہ کی تگ و دو کے بعد تھانہ صدر کے سب انسپکٹر افضل نواز نے کبیر والا سے سخاوت اور شہروز کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کیا۔ تاہم پولیس کے مطابق یہ واقعہ اغوا برائے تاوان یا ڈکیتی کا نہیں بلکہ آن لائن کاروبار میں لین دین کے تنازعہ کا نتیجہ تھا جس کی وجہ سے ملزمان نے یہ اقدام کیا۔ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی وارداتوں میں میاں چنوں، کبیر والا اور خانیوال سے تعلق رکھنے والے ایک منظم گینگ کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جس کے پیش نظر مزید گرفتاریوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں