تازہ ترین

بہاولپور:سلمیٰ جبیں قتل کیس میں اہم پیش رفت، ملزمان کیخلاف شواہد مضبوط

بہاولپور (کرائم سیل) تھانہ ڈیرہ نواب کی حدود میں شادی سے ایک روز قبل غیرت کے نام پر قتل ہونے والی نوجوان لڑکی سلمیٰ جبیں کے ہائی پروفائل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،روزنامہ قوم کی کوششوں سے عبوری ضمانتوں پر موجود مقتولہ کے چچا مختیار حسین کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوششیں دم توڑتی دکھائی دے رہی ہیں، کیونکہ ایس پی انویسٹیگیشن کی زیر نگرانی میرٹ پر تفتیش شروع ہوتے ہی موقع کے گواہان اور دیگر شواہد کی موجودگی میں قتل میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد سامنے آنے کے بعد مقامی پولیس عملاً دفاعی پوزیشن پر آ گئی ہے، ذرائع کے مطابق سیاسی سفارش پر ایس ایچ او اور تفتیشی افسر کو مبینہ طور پر ٹاؤٹوں کے ذریعے خرید کر ریلیف لینے کی کوششیں بھی ناکام ہو رہی ہیں، جبکہ مقتولہ کو 26 برس تک پالنے والی امیرہ مائی کی مسلسل دلیرانہ پیروی اور روز بروز مضبوط ہوتے شواہد کے باعث 24 جنوری کو عبوری ضمانتوں کی توثیق کے امکانات معدوم نظر ارہے ہیں، تاہم دوسری جانب میرٹ پر تفتیش شروع ہوتے ہی ملزمان پارٹی نے دباؤ بڑھاتے ہوئے امیرہ مائی، موقع کے گواہان اور مقتولہ کے منگیتر قاسم عبداللہ کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا ہے، قاسم عبداللہ کے مطابق گرفت مضبوط ہونے پر ملزمان مبینہ طور پر منفی ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اور گواہوں کو خاموش کرانے سمیت حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، گزشتہ روز احمد پور شرقیہ میں امیرہ مائی کے گھر کے اطراف مشکوک افراد کی آمد سے کسی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ پیدا ہو گیا جبکہ ایک اور موقع کے گواہ کے کام کی جگہ پر بھی غنڈہ عناصر کے ذریعے جانی نقصان پہنچانے کی مبینہ کوششیں کی گئی ہیں، جن کی اطلاع تھانہ ڈیرہ نواب اور تھانہ سٹی احمد پور کو دی گئی تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، اسی تناظر میں قاسم عبداللہ نے وزیراعلیٰ پورٹل پر شکایت درج کراتے ہوئے پولیس پر مبینہ مک مکا، ملزمان کی سہولت کاری اور تفتیش میں ریلیف دینے کے خدشات کا اظہار کیا ہے، جبکہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مثالی تفتیش مکمل کر کے ناقابلِ تردید شواہد عدالت میں پیش کیے جائیں تاکہ ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلائی جا سکے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں