بہاولپور؛ریٹائرڈ جسٹس کے رقبہ سے اغوا نوجوان کی لاش نہ ملی،با اثر شخصیات تفتیش پراثرانداز

قاتل بقا اللہ اورمقتول کامران عرف لاٹو

بہاولپور (کرائم سیل) سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس ملک محمد فرخ محمود کے رقبے سے اغوا ہونے والے کامران عرف لاٹو کیس میں ریٹائرڈ جسٹس کی جانب سے میرٹ کے سو فیصد احکامات کے باوجود بہاولپور پولیس کیس کے اصل حقائق اغوا یا قتل کی حقیقت تلاش کرنے میں مکمل ناکام نظر ا رہی ہے،نہ لاش برآمد ہوئی ہے اور نہ ہی کامران کا کچھ پتہ چل رہا ہے حتیٰ کہ بہاولپور کی کئی بااثر شخصیات سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی پولیس کی تفتیش اور فارم کی تلاشی کے دوران ساتھ ساتھ نظر آرہے ہیں، جس کی تصدیق بھی پولیس کے اعلیٰ افسران کے لئے اس لیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس کیس کی وجوہات اخلاقی معاملات کے علاوہ لین دین بھی بتائی جا رہی ہیں اور معقول ذرائع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ بعض افراد کی کروڑوں روپے کی انویسٹمنٹ بھی اس کیس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مرکزی ملزم بقا اللہ کے بھانجے احسان نے گرفتاری کے بعد نشاندہی کی کہ میرے ماموں بقاء اللہ، میری ممانی اور میں نے مل کر کامران عرف لاٹو کو قتل کیا ہے۔ پہلے سر میں گولی ماری پھر کامران عرف لاٹو کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس پر پولیس نے فارم واقع عقب سمال انڈسٹری پر گرفتار ملزم احسان کے مطابق جائے وقوعہ ہے مگر اس قتل کی اصل محرک بقا اللہ کی اہلیہ کو بھی شامل تفتیش نہیں کیا گیا۔ فارم ہاؤس کی تلاشی کے دوران میڈیا نمائندگان اور لواحقین کو فارم میں داخل نہ ہونے دیا گیا اور نہ ہی کیس کے متعلق کوئی حقائق بتلائے جا رہے ہیں جبکہ اس وقت متعدد غیر متعلقہ پرائیویٹ افراد ایس ایچ او صدر اور انچارج ہومی سائڈ کے ساتھ فارم میں جائے وقوعہ پر موجود تھے جو کہ لواحقین کے مطابق تفتیش پر اثر انداز ہو رہے ہیں، جبکہ پولیس کی فرانزک ٹیموں نے موقع پر سے پانچ اشیاء جن میں سے چارپائی پر سے خون کے نمونے خون آلود مٹی کامران عرف لاٹو کے زیر استعمال اشیاء کو( PFSA) لیے بھجوا دیا ہے۔ یہ امر بھی قابل غور ہے کہ سابق جسٹس کے لاتعلق ہونے کے باوجود تقریبا سات روز گزر جانے پر بھی پولیس ابھی تک مرکزی ملزم بقاء اللہ اور اس کی بیوی کو گرفتار نہیں کر سکی ،البتہ جلد گرفتاری کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع بقاء اللہ کی گرفتاری اور پی ایف ایس اے کی رپورٹ سے پہلے کسی قسم کی رائے دینے کہ یہ قتل ہے یا اغواء سے قاصر ہے ،یاد رہے کہ مدعی عدنان کی مدعیت میں اغوا کا مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے روایتی بے حسی اور غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو گرفتار نہ کیا اور اطلاعات کے مطابق بقاءاللہ کو اتنا موقع دیا گیا کہ وہ اپنا مال مویشی بیچ کر غائب ہو جائے۔ بہاولپور پولیس ابھی تک اس معاملے کو کسی حتمی نتیجے تک لانے میں یکسر ناکام نظر ا رہی ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں