بہاالدین زکریا یونیورسٹی میں قیمتی موٹرسائیکلیں اور لاکھوں روپے کا سامان چوری

ملتان (وقائع نگار) جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی تعلیمی درسگاہ بہاءالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں چوریوں کا سلسلہ کسی صورت رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ گزشتہ رات ایک بار پھر چوروں نے یونیورسٹی کے اندر دھاوا بول دیا اور سیکورٹی کنٹرول روم کی بالکل بیک سائیڈ پر موجود گارڈن سے دو قیمتی موٹر یں چوری کر لیں جبکہ یونیورسٹی کیمپس میں قائم سپر سٹور کے تالے توڑ کر لاکھوں روپے مالیت کا سامان لوٹ کر بآسانی فرار ہو گئے۔یونیورسٹی ذرائع نے بتایا کہ چوری کی یہ وارداتیں رات گئے پیش آئیں۔ موٹریں گارڈن میں نصب تھیں دوسری طرف سپر سٹور سے خوراک کا سامان اور نقدی چوری ہوئی۔ دکاندار کے مطابق نقصان تقریباً چار لاکھ روپے مالیت کا سامان اور نقدی چوری کی گئی ہے واضح رہے کہ مسلسل چوریوں کے پیشِ نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکورٹی سخت کرنے کے نام پر مین گیٹ کے علاوہ تمام اندرونی اور بیرونی گیٹز مکمل بند کر رکھے ہیں، داخلی و خارجی راستوں پر مزید سیکورٹی گارڈز تعینات کئے گئے ہیں اور رات کے وقت گشت بھی بڑھا دی گئی تھی، مگر اس کے باوجود چور بلا روک ٹوک اندر داخل ہوئے، واردات کی اور باآسانی نکل گئے۔طلبہ کا کہنا ہے کہ “یونیورسٹی کو قلعہ بنا دیا گیا ہے لیکن چوروں کے لئے یہ کوئی قلعہ نہیں بلکہ کھلا میدان ہے۔ ایک طالب علم نے بتایا کہ ہاسٹل کے کمروں سے بھی چیزیں غائب ہو رہی ہیں، لیکن انتظامیہ صرف نوٹس چسپاں کر کے ذمہ داری طلبہ پر ڈال دیتی ہے۔یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بھی زکریا یونیورسٹی میں چوریوں کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں اور کئی کیسز میں یونیورسٹی کے اپنے سیکورٹی گارڈز ہی ملوث پائے گئے تھے۔ ان گارڈز کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوئیں، کچھ کو برطرف بھی کیا گیا مگر چوریوں کا یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔اس تازہ ترین واقعے کے بعد طلبہ اور اساتذہ میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ وائس چانسلر سے فوری طور پر سیکورٹی کا موثر نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔زکریا یونیورسٹی کے ریزیڈنٹ آفیسر پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر سے جب رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ چور کے بارے میں معلوم کر لیا ہے فی الحال وہ غائب ہے جلد ہی اس کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں