ملتان (وقائع نگار) بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں خود کشی کرنے والے طالب علم محمد ریاض کے غائبانہ نمازِ جنازہ کے بعد طلبہ کا پرامن احتجاج انتظامیہ سے ہنگامی طبی سہولیات میں بہتری کے مطالبات کیے گئے تفصیل کے مطابق بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں پشتون اسٹوڈنٹس کونسل کے زیرِ اہتمام مرحوم طالب علم ریاض کے غائبانہ نمازِ جنازہ کے فوراً بعد طلبہ نے فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے سامنے پرامن احتجاج کیا۔ احتجاج کا مقصد یونیورسٹی میں ہنگامی طبی سہولیات کی شدید کمیوں کو اجاگر کرنا اور آئندہ ایسی دلخراش واقعات سے بچاؤ کے لیے فوری اصلاحات کا مطالبہ تھا۔طلبہ نے انتظامیہ کے سامنے درج ذیل اہم نکات پیش کیےہنگامی کال کے باوجود یونیورسٹی ایمبولینس تقریباً 30 منٹ کی تاخیر سے موقع پر پہنچی۔واقعے کے وقت فارمیسی میں کوئی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہ تھا جس کی وجہ سے فوری طبی امداد ممکن نہ ہو سکی۔یونیورسٹی کی ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر سمیت بنیادی فرسٹ ایڈ کا سامان بھی دستیاب نہ تھا۔احتجاج کے دوران ریذیڈنٹ آفیسر (RO) پروفیسر ڈاکٹر مقرب اکبر موقع پر پہنچے اور طلبہ قیادت سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے طلبہ کو یقین دہانیاں کرائیں کہ آئندہ کسی بھی ایمرجنسی میں تاخیر یا کوتاہی برداشت نہ کی جائے گی ہر ہاسٹل میں ایمبولینس ڈرائیورز کے رابطہ نمبرز آویزاں کیے جائیں گے تاکہ ایمبولینس فوری پہنچ سکے مطلوبہ میڈیکل اسٹاف اور ایمرجنسی آلات کی فوری دستیابی کو یقینی بنایا جائے گاپشتون اسٹوڈنٹس کونسل نے تمام شریک طلبہ کے پرامن اور ذمہ دارانہ رویے پر شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے توقع ظاہر کی کہ وہ طلبہ کی جائز اور حقیقی تشویشات کو ترجیح دیتے ہوئے فوری اصلاحات عمل میں لائے گی۔کونسل نے مرحوم ریاض کے لواحقین سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔







