آج کی تاریخ

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان کی کابینہ کا خصوصی اجلاس

بھارت کی آبی جارحیت جنگی اقدام تصور، پاکستان کا دوٹوک موقف

اسلام آباد: قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور آبی جارحیت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان کے پانی پر قبضے کی کوشش کی گئی تو اسے کھلا جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا، جس میں عسکری و سول قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں پہلگام واقعے کے بعد پیدا ہونے والی اندرونی و بیرونی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں بھارتی فالس فلیگ آپریشن اور دیگر غیر ذمے دارانہ اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان کے ممکنہ نتائج اور پاکستانی ردعمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بین الاقوامی اصولوں کی کھلم کھلا پامالی ہے، اور پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت طویل عرصے سے اس معاہدے سے نکلنے کے بہانے تلاش کر رہا تھا، مگر پہلگام جیسے واقعے کو بنیاد بنا کر پانی روکنا دراصل ایک مذموم سیاسی چال ہے۔
یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں چند روز قبل فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات کیے بغیر بھارتی حکومت نے پاکستان پر الزام لگا کر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا، جسے پاکستان نے شدید ردعمل کے ساتھ مسترد کیا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں