حالیہ دنوں میں بھارت اور روس کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت نے نہ صرف عالمی سیاست میں بلکہ خطے کی سلامتی کے منظرنامے پر بھی ایک خطرناک تہلکہ مچا دیا ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک کی جانب سے بار بار دی جانے والی تنبیہات اور دباؤ کے باوجود بھارت نے اپنی اسٹریٹجک حکمت عملی واضح طور پر جاری رکھی اور روس کے ساتھ دفاعی، اقتصادی اور جوہری توانائی کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط کر دیے ہیں۔ نئی دہلی میں صدر ولادی میر پیوٹن کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان جو معاہدات ہوئے، ان سے یہ واضح ہوا کہ بھارت نے عالمی دباؤ کو پسِ پشت ڈال کر اپنے جارحانہ مفادات کی راہ اپنائی ہے۔صدر پیوٹن کے دورے کے آغاز پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ایئرپورٹ پر روسی صدر کا باوقار استقبال کیا۔ اس موقع پر واضح کیا گیا کہ دونوں ملک سالانہ اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی قربتوں کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ صدر پیوٹن اور وزیر اعظم مودی کے درمیان ملاقات میں دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کو 100 ارب ڈالر تک بڑھانے اور بھارت میں سب سے بڑے ایٹمی پاور پلانٹ کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نہ صرف اقتصادی بلکہ دفاعی اور توانائی کے شعبے میں روس کے ساتھ اپنی وابستگی کو مستحکم کر رہا ہے۔ملاقات کے دوران صدر پیوٹن نے بھارتی توانائی ضروریات کو پورا کرنے اور روس کے توانائی وسائل کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے وعدہ کیا، جبکہ مودی نے روس میں دو نئے قونصل خانے کھولنے، تعلیم، کھیل، ثقافتی اور نوجوان پروگرامز میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا۔ ان اقدامات سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوطی ملے گی بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی بھارتی مفادات کے مطابق تبدیل ہو سکتا ہے۔یہاں واضح کرنا ضروری ہے کہ امریکی اور مغربی ممالک کی جانب سے بھارت پر جو دباؤ ڈالا جا رہا تھا، اس کے باوجود نئی دہلی نے اپنی خودمختار پالیسی کو ترجیح دی اور روس کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط کرنے کا اعلان کر دیا۔ صدر پیوٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا روس سے جوہری ایندھن خرید سکتا ہے تو بھارت کو بھی روسی تیل خریدنے کا برابر حق حاصل ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت اب کسی عالمی دباؤ کو اپنی قومی ترجیحات سے بالا تر نہیں مانتا۔روس اور بھارت کے درمیان دفاع، توانائی اور اقتصادی شعبوں میں بڑھتی ہوئی قربت سے خطے میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سفارت کاری، مسلسل عسکری پروگرامز اور روس کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری پاکستان کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو اپنے دفاعی ڈھانچے، اسٹریٹجک تعلقات اور خطے میں امن کے لیے محتاط اور فعال حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔اس ملاقات میں جو سب سے اہم پہلو سامنے آیا، وہ بھارت کا روسی تعاون کے ذریعے اپنے دفاعی اور جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ بھارت-روس تعلقات میں اس طرح کی قربت، خاص طور پر روس کی جدید ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی اور فوجی سازوسامان تک رسائی کے امکانات، پورے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ امریکی دباؤ کے باوجود بھارت کا یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ نئی دہلی اب عالمی طاقتوں کے دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی علاقائی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔صدر پیوٹن کے دورے کے دوران بھارت اور روس نے نہ صرف تجارتی حجم بڑھانے بلکہ ایٹمی پاور پلانٹ کے قیام اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر بھی اتفاق کیا۔ یہ اقدام بھارت کو توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے کے ساتھ ساتھ اسے جوہری صلاحیت کے حامل ملک کے طور پر بھی مزید مستحکم کر دے گا۔ بھارت کے ایٹمی پروگرام میں روس کی مدد، خطے کے لیے خطرات بڑھانے کے مترادف ہے، کیونکہ یہ نہ صرف بھارت کی عسکری طاقت میں اضافہ کرے گا بلکہ ممکنہ طور پر خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو بھی فروغ دے گا۔مزید برآں، روسی صدر نے دوطرفہ تجارت میں مقامی کرنسیوں کے استعمال پر زور دیا، جو دونوں ملکوں کی اقتصادی خودمختاری کے لیے اہم قدم ہے۔ اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ بھارت اور روس عالمی مالیاتی اداروں اور مغربی ممالک کے دباؤ کو مسترد کر کے اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کے مطابق ایک آزاد پالیسی اپنانا چاہتے ہیں۔خطے میں بھارتی جنگی جنون، روس سے دفاعی معاہدے اور اقتصادی قربت کی وجہ سے پاکستان کے لیے ممکنہ خطرات بڑھ گئے ہیں۔ بھارت نہ صرف اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے بلکہ روس کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کے ذریعے خطے میں طاقت کا نیا توازن قائم کر رہا ہے، جو پاکستان کی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔امریکی دباؤ کے باوجود بھارت کی جانب سے روس کے ساتھ قربت میں اضافہ، عالمی امن اور خطے کے استحکام کے لیے بھی خطرناک ہے۔ امریکا اور یورپی ممالک کی انتباہات، بھارت کی جارحانہ اور خودمختار پالیسی کے سامنے ناکافی ثابت ہوئی ہیں۔ بھارت اور روس کی اس بڑھتی ہوئی قربت سے خطے میں طاقت کا نیا توازن اور عالمی سیاست میں پیچیدگیاں مزید بڑھیں گی، جس سے علاقائی تنازعات اور ممکنہ عسکری کشیدگی کے امکانات بھی نمایاں ہوں گے۔اداریہ میں یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ بھارت کی یہ خودمختار، مگر خطرناک پالیسی نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی طاقت کے غیر مستحکم حالات پیدا کرے گی۔ امریکا اور مغربی ممالک کی طرف سے کوئی انتباہ یا دباؤ بھارت کی پالیسی پر اثرانداز نہیں ہو رہا، جو ظاہر کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنی جارحانہ حکمت عملی جاری رکھنے پر بضد ہے۔روس-بھارت تعلقات میں یہ پیش رفت پاکستان کے لیے فوری اور فعال ردعمل کا تقاضا کرتی ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع، سلامتی اور خطے میں امن کے لیے متوازن اور مؤثر حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہ صرف دفاعی تیاریوں کو مضبوط کرے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اثرورسوخ کے مقابلے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کرے۔اس سارے منظرنامے میں بھارت کا رویہ یہ واضح کرتا ہے کہ نئی دہلی اب کسی بھی عالمی دباؤ، چاہے وہ امریکا ہو یا یورپی ممالک، کو اپنی پالیسی پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا۔ روس کے ساتھ اقتصادی، دفاعی اور ایٹمی شعبوں میں بڑھتی ہوئی قربت، خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑ رہی ہے اور ممکنہ طور پر خطے میں نئے کشیدگی کے امکانات پیدا کر رہی ہے۔نتیجتاً، بھارت کا روس کے ساتھ سٹریٹجک تعاون، اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں قربت، نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن اور عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ پاکستان کے لیے لازم ہے کہ وہ اس خطرے کا بروقت ادراک کرے اور اپنی داخلی و خارجی پالیسیوں کو اس نئے چیلنج کے مطابق ڈھالے۔ عالمی برادری کو بھی بھارت کی بڑھتی ہوئی خودمختاری اور روس کے ساتھ تعلقات پر نظر رکھنی ہوگی تاکہ کسی بھی غیر متوقع عسکری یا اقتصادی کشیدگی سے پہلے اقدامات کیے جا سکیں۔آخر میں یہ واضح ہے کہ بھارت کی روس کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت نہ صرف ایک علاقائی بلکہ عالمی مسئلہ بن چکی ہے، جسے نظر انداز کرنا پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں امریکی انتباہ کے باوجود بھارت کی پالیسی، عالمی و خطے کے امن کے لیے ایک واضح خطرے کی گھنٹی ہے، جس پر فوری توجہ اور مؤثر ردعمل ناگزیر ہے۔







