
ملتان(قوم ریسرچ سیل)بوگس بلنگ میں ملوث واساریکوری انچارج کی سندبھی جعلی نکلی،ڈی جی ایم ڈی اے پشت پناہی کرنےلگے۔راولپنڈی بورڈ کی منسوخ شدہ سند پر نوکری کرنے والا واسا ملازم کی پشت پر رانا سلیم ڈی جی ایم ڈی اے ہیں، مقدادحسین صدیقی پر واسا ایجنسی کے ناجائز اور اضافی بل بنا کر شہریوں کو ہراساں کرنے کے ثبوت سامنے آئے ہیں، گزشتہ برس یکم اکتوبر کو ایم ڈی واسا نے مقداد صدیقی کو لیٹر 379 ایڈمن واسا کے تحت معطل کردیا تھا، معطلی کے فورا ًبعدریکوری انچارج اورچیئرمین غازی یونین واسا مقداد صدیقی نے یونین کا سہارا لیا اور صلاح مشورہ کے بعد ڈی جی رانا سلیم کو واسا یونین آفس کھانا کھلایا، ایم ڈی واسا کے خلاف شکایات کیں اور اپنی اسی سرکل میں بحالی کے لئے کہا، جس پر ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے رانا سلیم نے اختیارات استعمال کرتے ہوئےکھانا کھانے کے بعد ایم ڈی واسا کو حکم دیا کہ وہ فورا ًمقداد صدیقی کو اسی پوسٹ پر بحال کریں ۔صرف دس دن میں افسران سے بدتمیزی کرنے والے اور جعلی سند پر نوکری کرنے والے کو آفس آرڈر 383 کے تحت ایم ڈی واسا نے صاحب کے حکم پر بحال کردیاجبکہ اسے مس کنڈکٹ کی بنیاد پر معطل کیا گیا تھا۔ رانا سلیم کا فراڈ اور بد تمیز شخص کی اس قدر سہولت کاری کرنا اختیارات کے ناجائز اور غلط استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اس پر نوٹس لینے اور کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔ ذرائع کےمطابق مقدار صدیقی ایک فراڈ شخص ہے، یونین اور عدالتی سٹے کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔اس نے سال 1995میں مقدار حسین کے نام کی تلبیس شخصی سے میٹرک کی سند راولپنڈی تعلیمی بورڈ سے تیار کرائی اور واسا ایجنسی میں ملازمت لی۔ شہریوں کی شکایت پر راولپنڈی تعلیمی بورڈ نے انکوائری کے بعد مقدار صدیقی نام کی سند منسوخ کردی ہے۔مورخہ 12جون 2018 کو نوٹیفکیشن جاری کیا اور لکھا کہ “عوام الناس اور جملہ متعلقین کی اطلاع کیلئے مشتہر کیا جاتا ہے کہ بورڈ نے اپنے اجلاس منعقدہ 18 مئی 2018ء کی روئیداد کی شق نمبر 7 کے تحت اُمیدوار رولنمبر 158425 مقدار حسین عاقل ولد امداد حسین صدیقی برائے میٹرک سالانہ امتحان 1995ء گلی امام شاہ والی بستی دائرہ وارڈ نمبر 8 محلہ عابد پورہ ملتان کا شائع / جاری شدہ نتیجہ منسوخ کرنے کی منظوری دی ہے۔ جملہ متعلقین اپنا ریکارڈ درست کر لیں۔واضح رہے کہ مرقومہ بالا امیدوار نے تلبیس شخصی کراتے ہوئے جعل سازی سے امتحان پاس کیا۔ جس کا نتیجہ منسوخ کر دیا گیا ہے اور اب جاری شدہ نتیجہ کارڈ اور سند اپنی تحویل میں رکھنا اور کسی مقصد کیلئے استعمال میں لانا قابل تعزیز جرم ہوگا۔

(کنٹرولر امتحانات)
اس سند کی منسوخی سے قبل سابق ایم ڈی واسا نے ایک انکوائری کی جس میں مقداد حسین صدیقی نے اپنی تعلیمی قابلیت ایک بوگس مدرسہ سردارالمدارس کی جاری کردہ سند پیش کی تھی وہ بھی فرضی اور غیرقانونی ثابت ہوئی۔ یہ ڈی جی ایم ڈی اے کے اختیارات کے ناجائز استعمال کا المیہ ہے کہ جعلی سند رکھنے والے اور مس کنڈکٹ کے مرتکب ملازم مقداد صدیقی کے دفاع میں آکر اسے بحال کرایا گیا۔قانونی ماہرین کےمطابق قانون اور انصاف کی نظر میں اسے بحال کروانا ایک سنگین جرم ہے۔ ایک ایسے شخص کو جو جعل سازی کے ذریعے اپنی ملازمت حاصل کرتا ہے، کیلئے کسی اعلیٰ افسر کی پشت پناہی نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ادارے کی دیانتداری اور ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہے۔یہ حیران کن بات ہے کہ مقداد صدیقی جس کی تعلیمی قابلیت جعلی ثابت ہو چکی ہے اور جس نے فرضی مدرسے کی سند پیش کی، 16ویں گریڈ تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ سوال ادارے کے نظام اور اندرونی سہولت کاری پر سنگین اعتراضات اٹھاتا ہے۔ ایسے افراد کی ترقی اور بحالی نہ صرف اہل امیدواروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتی ہے بلکہ ادارے کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جعلی دستاویزات اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی نہ ہونے سے ایسے افراد طاقتور سہولت کاروں کے سہارے نظام میں موجود رہتے ہیں۔یہ افسران بالا کے پروردہ لوگ اپنے سہولت کاروں کے لئے بھتہ جمع کرتے ہیں۔ اگر اس رویے کو روکا نہ گیا تو یہ مثال مستقبل میں مزید جعل سازوں اور کرپٹ عناصر کو تقویت دے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ افسران اپنے اختیارات کو دیانتداری سے استعمال کریں اور ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنائیں تاکہ ادارے کی شفافیت اور عوام کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔وزیراعلیٰ پنجاب کمشنر ملتان کو ہدایت جاری کریں کہ جب تک مقداد صدیقی اپنی میڑک کی سند بحال نہیں کرا لیتا اسے معطل کیا جائے جو قرین انصاف ہے، ہائی کورٹ نے سٹے سند پر دیا ہے، ایگزیکٹو کارروائی کے لئے انتظامیہ کو نہیں روکا گیا۔واسا اور ایم ڈی اے کے وکلاعدالت میں پیش ہوکر اس کا فرضی سٹے آرڈر منسوخ کرائیں۔ ملازم سے برخاست کر کے اس سے تنخواہوں کی مد میں لی گئی رقم سرکاری خزانہ میں جمع کرائی جائے۔یادرہے کہ روزنامہ قوم تین جنوری کی اشاعت میں ریکوری انچارج مقدادحسین صدیقی کی بوگس بلوں کےذریعے شہریوں سے لوٹ مارکی خبرشائع کرچکاہے۔






