ملتان(سٹاف رپورٹر)جنوبی پنجاب میں ایک ایسا سکینڈل سامنے آیاہے جو غریب آٹے کے صارف اور کسان دونوں کی کمائی پر ڈاکہ ہے، فلور ملز کے مالکان اور واپڈا افسران باہمی ساز باز سے سرکاری گندم کے کوٹے کو جعلی بلوں کے ذریعے بازار میں بیچ کر کروڑوں روپے ہڑپ کر رہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق اپر پنجاب اور جنوبی پنجاب کی متعدد فلور ملز اور واپڈا افسران کے درمیان بڑے پیمانے پر مالی فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری گندم کوٹے کے حصول کے لیے فلور ملز مالکان بند ملز کے جعلی بجلی بل بنواتے ہیں، تاکہ انہیں کوٹہ جاری رہے اور وہ گندم مارکیٹ میں فروخت کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے واپڈا کے بعض افسران سے ملی بھگت کی جاتی ہے اور بھاری رشوت کے عوض جعلی بل تیار کرائے جاتے ہیں۔چھوٹی فلور ملز والے عموماً 15 لاکھ روپے تک کے جعلی بل بنواتے ہیں جبکہ بڑی ملز کے لیے یہ رقم کروڑوں روپے میں چلی جاتی ہے۔ بل جمع کروانے کے بعد فلور ملز مالکان کوٹہ کی گندم حاصل کر لیتے ہیں اور اسے مارکیٹ میں فروخت کر کے فی بوری تقریباً4000 روپے تک منافع کماتے ہیں۔ اس طرح 300 بوری کوٹہ رکھنے والی بڑی فلور ملز باآسانی 12 لاکھ روپے روزانہ تک کا ناجائز منافع حاصل کر لیتی ہے جبکہ بڑی ملیں تو اس سے کئی گنا زیادہ منافع یومیہ کما رہی ہیں ۔ بعدازاں یہی ملز مالکان واپڈا حکام سے دوبارہ رابطہ کر کے موقف اختیار کرتے ہیں کہ ان کی ملز طویل عرصے سے بند ہیں اور اتنا زیادہ بل آنا ممکن نہیں۔ اس کے بعد واپڈا کے افسران کی مدد سے درخواست جمع کروائی جاتی ہے اور بلوں کو موجودہ چلتی فلور ملز کے بلوں میں ایڈجسٹ کروا لیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف مالی ریکارڈ مسخ ہوتا ہے بلکہ کرپشن کو قانونی جواز دینے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔اس غیر قانونی عمل کے نتیجے میں ایک جانب سرکاری گندم کوٹے کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو دوسری جانب عام شہری اور مقامی آٹے کے تاجر شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے اور سرکاری گندم مہنگے داموں فروخت ہونے سے عوام پر مالی بوجھ بڑھ رہا ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ فلور ملز مالکان اور واپڈا افسران کے درمیان یہ ملی بھگت برسوں سے جاری ہے، جس سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔ اگر اس فراڈ کی شفاف تحقیقات کی جائیں تو متعدد ملز مالکان اور واپڈا افسران کے نام سامنے آئیں گے۔ تاجر حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پنجاب اور وفاقی ادارے فوری طور پر معاملے کی تحقیقات کرائیں، جعلی بلنگ اور کوٹہ فروخت میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور عوامی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی وصولی یقینی بنائی جائے۔ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ اربوں روپے کی منظم کرپشن کا نیٹ ورک آئندہ گندم پالیسیوں اور آٹے کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے، جس کا براہ راست نقصان عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔







