ملتان (کرائم رپورٹر ) اعلیٰ افسران، صنعت کاروں اور معززین شہر کر ٹریپ کرکے ملتان شہر میں عرصہ دراز سے ڈویلپر، صحافی، وکیل اور ایک فاحشہ خاتون کا نیٹ ورک بڑے بزنس ٹائیکونز سمیت بیوورو کریسی کو بلیک میل کرنے میں مصروف تھا اور یہ گینگ عظمیٰ شہزادی کے گینگ کی طرز پر وارداتیں ڈال رہا تھا مگر پولیس کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس گروہ کا سرغنہ عمران خان نامی ایک شخص تھا جو ایف بی آر، کسٹم افسران صنعت کاروں اور معززین شہر کو ٹریپ کرتا تھا۔جنوبی پنجاب میںعظمی ٰشہزادی کے بعد زلیخا نامی خاتون کا یہ نیٹ ورک اس وقت منظرعام پر آیا جب ایک عالمی شہرت یافتہ نعت خواں شہباز قمر فریدی کو طے شدہ پلان کے تحت بلیک میل کرنے میں پہلے فیز میں کامیاب ہونے کے بعد بلیک میلنگ میں ملنے والی 30 لاکھ کی رقم میں سے نصف عمران خان نے مانگ لی۔حصوں کے بٹوارے کے دوران زیادہ کا یہ لالچ ناکامی کا باعث بن گیا۔ تین روز قبل تھانہ بی زیڈ کے علاقے میں زلیخا نامی خاتون، وکیل، صحافی اور دو معزز ڈویلپرز کیساتھ پلان بنایا کہ عالمی شہرت یافتہ نعت خواں شہباز قمر کو شراب و شباب کی محفل میں مدعو کرکے اسے نشہ کی حالت میں زلیخا کیساتھ زیادتی کا سیکنڈل بنایا جائے اور محفل میں مدعو کرنے والے پہلے فرار ہوجائیں گے تو زلیخا مظلوم بن جائیگی، تمام تر ریکارڈنگ کرے گی اور وکیل کے ذریعے پولیس موقع پر پہنچ کر زلیخا کو بازیاب کروا کر ڈیل کر لی جائے گی۔ بعد ازاں صحافی معزز ڈویلپرز موقع پر آ کر منت سماجت کے بعد نقد رقم دلوا کر منا لیں گے اور مقدمہ کے اندراج کی نوبت نہیں آئے گی۔سب پلان کے مطابق چل رہا تھا مگر پولیس اس کھیل کا حصہ نہ بنی اور مقدمہ ویمن پولیس سٹیشن میں درج ہو گیا۔ مقدمہ درج ہوتے ہی ایک ڈی ایس پی جو کہ ڈویلپرز کا دوست تھا، مداخل ہوا اور ڈیل کی کوششوں کا آغاز ہواتو مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے میں ڈیل ہو گئی اور زلیخا نے موقع پر رقم وصول کر لی۔دوسری جانب نعت خواں نے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا تو انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس نے خاتون کو حراست میں لیکر حقائق منظرعام پر لانے کا خصوصی ٹاسک ملتان پولیس کو سونپ دیا، پولیس کی حراست میں آتے ہی زلیخانے طوطے کی طرح بلیک میلنگ کا سارا پول کھول دیا جس پر گزشتہ سے پیوستہ روز ایک اور مقدمہ ویمن پولیس اسٹیشن کی ایس ایچ او ارم حنیف کی مدعیت میں درج کرکے ملک سے فرار ہونے والے صحافی عمران خان کو حراست میں لےلیا گیا جبکہ دیگر کو ایک بار پھر ضمانت کرانے کا موقع فراہم کر دیا گیا۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہگزشتہ چند گھنٹوں میں درجن کے قریب شرفاء بھی اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پولیس سے رابطے کر چکے ہیں جن کو مذکورہ گینگ بلیک میل کرچکا ہے،بتایا گیا ہے کہ عمران خان کی سپورٹ میں بھی بعض صحافی حضرات اور افسران اپنے اپنے طور پر کوشش کر رہے ہیں جبکہ پولیس نے عمران خان کے موبائل کا فرانزک سائنس لیبارٹری سے آڈٹ کرانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے قبضے میں لے لیا ہے۔






