بلڈ شوگر کو قابو میں رکھنے کے آسان طریقے

جب ہم کاربوہائیڈریٹس والی غذا مثلاً روٹی، چاول، مکئی، آلو، دالیں، کیلا یا سیب کھاتے ہیں تو یہ معدے میں پہنچ کر گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز کی سطح بڑھتی ہے، جسے عام زبان میں “بلڈ شوگر” کہا جاتا ہے۔ جسم اس کے توازن کے لیے لبلبہ انسولین ہارمون خارج کرتا ہے، کیونکہ گلوکوز ہمارے خلیوں، خاص طور پر دماغ کے نیورونز، کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب انسان وقفے وقفے سے بار بار کاربوہائیڈریٹس والی غذا کھاتا ہے۔ اس سے خون میں بلڈ شوگر کی سطح مسلسل بلند رہتی ہے، جس کے نتیجے میں تھکن، سستی، چڑچڑاپن اور وقت کے ساتھ ذیابیطس، گردے کی بیماری، امراض قلب اور دماغی مسائل جیسے ڈیمنشیا کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹس کے اثرات: کھانے کے بعد لبلبہ انسولین اور امیلن ہارمون خارج کرتا ہے۔ انسولین گلوکوز کو خون سے خلیوں میں منتقل کرتی ہے جبکہ امیلن ہاضمے کو سست کرتی ہے۔ ذیابیطس میں یہ نظام متاثر ہوتا ہے، جس سے خون میں گلوکوز کی سطح زیادہ بڑھ جاتی ہے اور دماغی صلاحیتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے طریقے
کم GI والی غذائیں کھائیں: کم گلیسیمک انڈیکس والی غذائیں آہستہ ہضم ہوتی ہیں اور بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیب اور پھلیاں۔

زیادہ فائبر شامل کریں: لوبیا، ثابت اناج اور پھل بلڈ شوگر کے تیزی سے بڑھنے کو روکتے ہیں کیونکہ یہ ہضم میں وقت لیتے ہیں۔
غذا میں توازن رکھیں: کاربوہائیڈریٹس کو پروٹین یا صحت مند چکنائی کے ساتھ کھانے سے ہضم آہستہ ہوتا ہے اور بلڈ شوگر مستحکم رہتی ہے۔
کھانے کی مقدار کم کریں: کھانے کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کریں تاکہ بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ نہ ہو۔
کھانے کے بعد جسمانی سرگرمی کریں: کھانے کے بعد صرف 15 منٹ کی ہلکی سیر یا گھریلو کام بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
لو بلڈ شوگر سے بچیں: کم بلڈ شوگر (Hypoglycemia) سے بچنا ضروری ہے تاکہ کھانے کے بعد بلڈ شوگر اچانک نہ بڑھے۔

کھانے کے بعد بلڈ شوگر کو متوازن رکھنا صحت مند زندگی کے لیے ضروری ہے۔ یہ نہ صرف توانائی بڑھاتا ہے بلکہ ذیابیطس اور دیگر پیچیدگیوں کے خطرات بھی کم کرتا ہے۔ اگر آپ بلڈ شوگر کنٹرول یا HbA1c کی سطح کے بارے میں فکر مند ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں