بلدیہ جہانیہ میں کھینچا تانی، اکاؤنٹنٹ کو سی او کے اختیارات، دفتر “میدان جنگ” میں تبدیل

ملتان (سٹاف رپورٹر) بلدیہ جہانیہ ایک بار پھر شدید انتظامی بحران کی لپیٹ میں آ گئی جہاں مبینہ طور پر اختیارات کی کھینچا تانی نے دفتر کو’’میدانِ جنگ‘‘ میں تبدیل کر دیا۔ ذرائع کے مطابق چیف افسر بلدیہ جہانیہ شازمہ جاوید نے اقبال ناہید نامی اکاؤنٹنٹ کو تمام تر اختیارات دے رکھے تھے اور دفتر میں ان ہی کے سکہ چلتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر بلدیہ فہد نور نے محمد شفیق نامی سینئر کلرک کو آئی اینڈ ایس برانچ میں ٹرانسفر کرنے کے احکامات جاری کیے تاہم چیف افسر شازمہ جاوید نے ان احکامات کو مسترد کرتے ہوئے عملدرآمد روک دیا۔بلدیہ کے معاملات عملاً ایک اکاؤنٹنٹ اقبال ناہید کے ہاتھ میں ہیں، جن پر ماضی میں اخلاقی نوعیت کے الزامات بھی لگتے رہے۔ الزام ہے کہ متعلقہ اکاؤنٹنٹ نے محمد شفیق کو چارج لینے سے روکنے کے لیے سخت موقف اختیار کیا جس کے نتیجے میں دفتر میں تلخ کلامی اور ہاتھا پائی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ واقعے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب ایک مقامی صحافی کی موجودگی میں اقبال ناہید نامی کلرک نے اپنے کپڑے خود پھاڑ لیے اور بعد ازاں چیف افسر شازمہ جاوید کی جانب سے پولیس ہیلپ لائن پر کال کی گئی، جس پر مقامی ایس ایچ او اخلاق لنگراہ فوری موقع پر پہنچ گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق ایس ایچ او اخلاق لنگراہ نے کسی باضابطہ انکوائری یا ابتدائی حقائق کی جانچ کے بغیر محمد شفیق کو حراست میں لینے کی کوشش کی اور ان کے گھر جا کر اہلِ خانہ کے ساتھ بھی بد تمیزی کی انتہا کر دی اور محمد شفیق کے گھر داخل ہوتے وقت ان کے ساتھ کوئی لیڈی پولیس اہلکار موجود نہیں تھی اور کلرک محمد شفیق کی اہلیہ اور بچوں کو بھی نا قابل اشاعت جملوں سے نوازا۔ محمد شفیق کے گھر بغیر کسی درخواست کے ریڈ کر کے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کے 6 گھنٹے بعد محمد شفیق کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر و ایڈمنسٹریٹر نے تمام صورتحال سے ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کر دیا ہے اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شہر کے سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا ایک بلدیاتی ادارہ ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر چلایا جا سکتا ہے؟ کیا انتظامی احکامات کو یوں نظرانداز کرنا قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتا؟ اور کیا پولیس کارروائی سے قبل غیر جانبدارانہ تحقیق ضروری نہیں تھی؟ بلدیہ جہانیہ میں جاری اس تنازع نے نہ صرف سرکاری نظم و نسق پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ اگر فوری شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو معاملہ مزید سنگین رخ اختیار کر سکتا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں