بغیر’’ کے‘‘ فارم پٹرولیم مصنوعات کی فروخت غیر قانونی: ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ

ملتان (عوامی رپورٹر) ملک بھر میں پٹرول پمپس کو پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کے لیے فارم’’ کے‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے جو ملک بھر میں ایکسپلوسیو ڈیپارٹمنٹ ملک بھر میں رجسٹرڈ 41 آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی استعداد کے مطابق جاری کرتا ہے اور اس کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے جس کے تحت کوٹے کے مطابق درخواست دینی پڑتی ہے مگر لوگ’’ کے‘‘ فارم کے حصول کے بغیر ہی پٹرول پمپ بنا کر پٹرولیم مصنوعات کی فروخت شروع کر دیتے ہیں جو کہ غیر قانونی ہے اور انہیں سسٹم میں لانے کے لیے چالان کیے جاتے ہیں ۔یہ باتیں ڈپٹی ڈائریکٹر ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ جنوبی پنجاب محمد آصف نے روزنامہ قوم کو بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا عملہ ہر سال کے آخر میں پرانے k فارم منسوخ کرکے نئے جاری کرتا ہے اور نئے پٹرول پمپس کے لیے k فارم اسی صورت میں مل سکتے ہیں جب مذکورہ آئل کمپنی جس کے ساتھ پٹرول پمپ رجسٹرڈ ہے کے پاس گنجائش ہو اور طے شدہ گنجائش کے علاوہ کوئی فارم’’ کے‘‘ جاری نہیں کیا جا سکتا۔ اسلئے ہمارے محکمے میں کوئی ٹھیکے دار نظام نہیں اور نہ ہی کوئی غیر متعلقہ شخص پٹرول پمپس کے لیے k فارم اور ایل پی جی باؤزرز کے لیے ایل فارم کا اجرا کروا سکتا ہے اگر کوئی اس قسم کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ سراسر بے بنیاد اور غیر قانونی ہے۔ طریقہ کار کے مطابق ’’کے ‘‘فارم اور’’ ایل ‘‘فارم حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ پروسیجر سے گزرنا پڑتا ہےکیونکہ ایکسپلوسو ڈیپارٹمنٹ کے پاس چھاپہ مارنے کا اختیار نہیں لہٰذا ہم صرف ضلعی انتظامیہ کو خط لکھ کر آگاہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جو ہم بار بار لکھتے رہتے ہیں اور اور جرمانے و سیل کے اختیارات صرف اور صرف ضلعی انتظامیہ کے پاس ہیں۔

شیئر کریں

:مزید خبریں