بغیر این او سی ڈیڈ لائن کا ڈرامہ، ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم نے سادہ لوح عوام پر نیا جال ڈال دیا

ملتان (سپیشل رپورٹر) ایسٹرن ہاؤسنگ اسکیم ملتان نے ایک نیا “اشتہار نما نوٹس” جاری کرتے ہوئے عوام اور اپنے کسٹمرز کو 28 فروری 2026 تک پلاٹوں کی اوپن فائل جمع کرانے کی پابندی عائد کر دی ہے۔ایم ڈی اے کی مکمل خاموشی لیکن حیرت انگیز طور پر یہ اعلان ایک ایسی ہاؤسنگ اسکیم کی جانب سے کیا گیا ہے جس کے پاس ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا کوئی باقاعدہ این او سی (NOC) موجود ہی نہیں۔اشتہار میں اسکیم انتظامیہ نے بڑے فخر سے اعلان کیا ہے کہ وہ ’’اپنے وعدوں کے مطابق 02 بلاکس کی بیلٹنگ کروا رہی ہے‘‘ اور کسٹمرز کو آخری تاریخ سے قبل تمام فائلیں جمع کرانے کا کہا گیا ہے، بصورتِ دیگر “ریفنڈ پالیسی” لاگو کر دی جائے گی۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ ہاؤسنگ سکیم قانونی طور پر کسی قسم کی بیلٹنگ یا فائل کلیئرنس کی مجاز نہیں، کیونکہ ابھی تک نہ واسا سے مکمل این او سی ملا ہے، نہ ایم ڈی اے سے منظوری۔ذرائع کے مطابق، واسا ملتان کے 30 مئی 2024 کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح لکھا گیا تھا کہ “واسا اس اسکیم کو پانی و سیوریج کی سہولت فراہم کرنے کا پابند نہیں اور سروس ڈیزائن کی منظوری سے قبل کسی بھی ترقیاتی سرگرمی کی اجازت نہیں۔” مگر ایسٹرن ہاؤسنگ کی انتظامیہ اسی مشروط دستاویز کو مکمل این او سی ظاہر کر کے عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں کسی بھی نجی اسکیم کی جانب سے ڈیڈ لائن، بیلٹنگ یا ریفنڈ پالیسی کا اعلان کرنا عوامی دھوکے کے مترادف ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف Pakistan Penal Code Section 420 کے تحت فراڈ کے زمرے میں آتا ہے بلکہ Multan Development Authority اور Punjab Housing and Town Planning Agency کے قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔شہری حلقوں نے حکومت پنجاب، ایم ڈی اے، واسا، اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسٹرن ہاؤسنگ اسکیم کے تمام تشہیری مواد، بیلٹنگ نوٹسز اور اشتہارات پر فوری پابندی عائد کی جائے اور عوام کی جمع پونجی کو مزید ضائع ہونے سے بچایا جائے،عوام نے یہ سوال کیا ہے کہ جب این او سی ہی موجود نہیں تو ایسٹرن ہاؤسنگ سکیم کو بیلٹنگ، ریفنڈ اور ڈیڈ لائنز جاری کرنے کا اختیار کس نے دیا؟

شیئر کریں

:مزید خبریں