اٹھارہ برس بعد پنجاب میں بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی اجازت نہیں، بلکہ عوامی ثقافت کے اس دھارے کی طرف لوٹنے کا پہلا قدم ہے جسے کئی برسوں سے خوف، انتہا پسندی، بے جا پابندیوں اور انتظامی کمزوریوں نے جکڑ رکھا تھا۔ بسنت کی واپسی اس بات کی علامت ہے کہ سماج کو خوشیوں، رنگوں، موسیقی اور میل ملاپ سے محروم رکھ کر اسے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ ایک زندہ، متحرک ثقافت ہی وہ قوت ہے جو سماج کو تشدد، تنگ نظری اور جمود سے نکالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہیے، بشرطیکہ ریاست اس بار اپنی ذمہ داری سنجیدگی سے نبھائے اور شہری معاشرہ بھی اس تہوار کو محفوظ، ذمہ دارانہ اور خوشگوار طریقے سے منانے میں اپنا کردار ادا کرے۔بسنت ایک روزمرہ تفریح نہیں بلکہ پنجاب کی اجتماعی یادداشت، محبت اور رنگوں کا تہوار ہے۔ یہ تہوار صرف پتنگ نہیں اڑاتا—یہ دلوں کو جوڑتا ہے، چھتوں پر بیٹھے اجنبیوں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنا دیتا ہے، خاندانوں کو اکٹھا کرتا ہے، قہقہوں کو بلند کرتا ہے، اور شہر کی فضا کو زندگی سے بھر دیتا ہے۔ بسنت کی بحالی اس احساس کی واپسی ہے کہ عوامی تہوار کسی ایک طبقے یا شہر کی ملکیت نہیں بلکہ مجموعی معاشرتی سانس ہیں جو سماج کو زندہ رکھتے ہیں۔پنجاب حکومت نے اگر سخت قواعد کے ساتھ بسنت کی اجازت دی ہے تو یہ ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ حقیقی آزادی وہ ہوتی ہے جس میں تحفظ بھی شامل ہو۔ اگر انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ڈور صرف دھاگے کی ہوگی، کم عمر بچوں کو احتیاطاً محدود رکھا جائے گا اور پتنگ فروشوں کے لیے جدید طریقہ کار اپنایا جائے گا، تو یہ تہوار کی روح کو نقصان پہنچائے بغیر اسے محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔ عوامی تفریح کی حفاظت اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے—اور یہ فیصلہ اسی سمت کی جانب اشارہ ہے۔مگر بسنت کی بحالی کے ساتھ ساتھ ایک وسیع تر سوال بھی ازسرنو زندہ ہو گیا ہے: کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ پنجاب اور پورا ملک تمام روایتی میلوں، مقامی تیوہاروں، لوک ثقافتی تقریبات اور ان عوامی تہواروں کی واپسی کو یقینی بنائے جنہیں گزشتہ دو دہائیوں میں غیر ضروری پابندیوں، مذہبی انتہا پسندی، سیکیورٹی خدشات یا محض ’’اچھے شہری‘‘ بنانے کے نام پر ختم کر دیا گیا؟ پنجاب حکومت سے یہ مطالبہ بالکل بجا ہے کہ جب بسنت بحال ہو سکتی ہے تو ’’بابا فرید دی ملہ‘‘، ’’جھومر‘‘، ’’تھان‘‘، ’’لوک میلے‘‘، ’’پہاڑی میلے‘‘، ’’کتاب میلے‘‘، ’’ثقافتی دنگل‘‘، ’’فوک رقص‘‘ اور دیگر سینکڑوں روایتی صوبائی و مقامی سرگرمیوں کی بحالی کیوں ممکن نہیں؟ عوامی ثقافت کا سانس روک کر کوئی معاشرہ خوشحال نہیں ہوتا۔ تہذیب ان ہی میلوں کے ساتھ پھلتی ہے۔ہماری سرزمین صدیوں سے لوک سازوں، مجیروں، مرلیوں، دھولکیوں، جھومروں، کہانی گوئی، لوک ناٹک، گیت، بیت، قوالی، بھنگڑا، دھمال اور سنگیت کی سرزمین رہی ہے۔ مگر ایک طویل عرصہ ایسا گزرا کہ فنکاروں کے ساز خاموش رہے، ناٹک بردار تھیٹر کے پردے گر گئے، سنگیت کے اکھاڑے خالی ہو گئے، اور لوک فنکار معاشی پریشانیوں اور سماجی تنگ نظری کے درمیان دم توڑتے گئے۔ بسنت کی بحالی اس خاموشی کے خلاف ایک علامتی بغاوت ہے—ایک نئے آغاز کی صورت۔یہ وقت ہے کہ پنجاب حکومت، دوسری صوبائی حکومتیں اور وفاق تمام روایتی میلوں، تھیڑ، ناٹک، قوال باچوں، دھمالیوں، فوک سنگرز اور مقامی فنکاروں کو باقاعدہ سرپرستی فراہم کریں۔ میلوں میں تھیڑ کی اجازت دی جائے، لوک موسیقی کے پروگرام ہوں، گھمبیر، گاہیکی، اپرا، سارہیکی لوک گیت، پنجابی جگوں، بلوچ لوک ساز، پشتون اتن، کشمیری و کارگل سُر—سب کی ثقافت کو جگہ دی جائے۔ میلے ہی وہ موقع ہیں جہاں فنکار اور عوام براہ راست ملتے ہیں، اور جہاں بچوں کو اپنی ثقافت زندہ اور جیتی جاگتی حالت میں دکھائی دیتی ہے۔ثقافت صرف کتابوں میں محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اس کا حقیقی اظہار وہ ہوتا ہے جب شہر و قصبے گویوں، ڈھولچیوں اور ناچ گانوں سے روشن ہوں، جب لوگ اپنی زمین کی موسیقی اور اپنے خطے کے رنگوں کو اپنے ساتھ محسوس کریں۔ اس لیے بسنت کی بحالی پر خوشی کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری مطالبہ ہے کہ حکومت ان میلوں پر عائد پابندیاں ختم کرے جنہوں نے ہمارے معاشرے کو بے روح کر رکھا تھا۔اگر حکومت واقعی پُرامن، خوشحال اور زندہ معاشرہ بنانا چاہتی ہے تو اسے تہذیبی خوف کے بجائے ثقافتی اعتماد کو فروغ دینا ہوگا۔ بسنت کی واپسی امید کی ایک کرن ہے، مگر یہ سفر کا آغاز ہے، انجام نہیں۔ اس ملک کی گلیاں، بازار، چھتیں اور چوک دوبارہ لوک ثقافت کے ساز سے گونجیں—یہی وہ روشنی ہے جو معاشرے میں برداشت، محبت اور میل جول کو بڑھاتی ہے۔بسنت کی مبارک واپسی کے ساتھ ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ حکومت روایتی ثقافت کے دریچے ہر شہر میں کھولے، میلوں کو بحال کرے، تھیڑ اور ناٹک کو دوبارہ مقام دے، فوک فنکاروں کو سرپرستی دے، اور عوامی ثقافت کو ریاستی سطح پر ایک زندہ اور محترم اقدار کی صورت تسلیم کرے۔یہی راستہ ہے جو پنجاب کو، اور پھر پورے پاکستان کو، روشن، ترقی پسند، جاندار اور انسانی معاشرہ بنا سکتا ہے۔گزشتہ چالیس برس کا سماجی منظرنامہ یہ گواہی دیتا ہے کہ پنجاب حکومت نے آہستہ آہستہ اس خطے کی صدیوں پرانی روح—عوامی میلوں، لوک میلہ جات، اور ثقافتی اجتماعات—کو ایسے دبا دیا جیسے یہ ہمارا ورثہ نہیں بلکہ کوئی خطرہ ہوں۔ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ پنجاب کے بڑے قصبات سے لے کر دور دراز دیہی علاقوں تک وہ تمام میلے، جو کبھی زندگی، حال اور امید کے رنگ بکھیرتے تھے، پابندیوں کے بوجھ تلے خاموش ہو چکے ہیں۔ بسنت کی بحالی شاندار قدم ہے، مگر یہ ادھورا رہے گا جب تک پنجاب حکومت اپنے باقی ثقافتی ورثے کو بھی سانس لینے کا حق نہیں دیتی۔لاہور میں میلہ چراغاں کبھی صرف ایک میلہ نہیں تھا، یہ پنجاب کی روح تھی۔ شاہ حسین، مادھو لال کا پیار، چراغوں کا سمندر، صوفیانہ قوالیوں کی بازگشت، چھتوں پر بیٹھے خاندان، کھانے پینے کا ہنگامہ، ساز، ڈھول، دھمال—یہ سب محض مذہبی تقریبات نہ تھے بلکہ پنجاب کی اجتماعی زندگی کی علامت تھے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ شاہ حسین کے عرس کو صرف مزار کی چار دیواری تک محدود کر دیا گیا ہے۔ باہر وہ زندگی، وہ روشنی، وہ عوامی جوش—سب غائب۔یہی حال حضرت میاں میر، شاہ عنایت قادری، حضرت داتا گنج بخش، بی بی پاکدامن، اور لاہور سمیت پورے پنجاب کے صوفیا کے عرسوں کا ہے۔ ان مواقع پر صدیوں سے لگنے والے میلے، جھومر، لوک رقص، ہنرمندوں کے بازار، درویشوں کی محفلیں، ڈھولچیوں کی تالیں—یہ سب ختم کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب کی روح کو تنگ نظری نے یوں قید کر دیا ہے کہ اب ان میلوں کا نام بھی تاریخ کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔راولپنڈی میں بری امام سرکار کے عرس پر کبھی ہزاروں افراد کے قدم چلتے تھے، پورا شہر مہک اٹھتا تھا، مگر اب عوامی میلہ ختم کر دیا گیا ہے۔ پاک پتن میں بابا فرید گنج شکر کے عرس پر عوام کا سمندر اکٹھا ہوتا تھا—پنجاب کے دل کا دھڑکن—مگر اب وہاں بھی صرف رسمی تقریب ہے، میلہ نہیں۔ سخی سرور کا میلہ جو بلوچستان، سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کی ثقافتوں کو ایک ہی دائرے میں جوڑ دیتا تھا—آج وہ بھی پابندی کے اندھیرے میں غائب ہے۔یہ پابندیاں اس خطے کے لوگوں کی زندگیوں سے خوشی، تخلیق اور اجتماعی ہم آہنگی کو چھیل چکی ہیں۔ اگر پنجاب حکومت واقعی عوام دوست اور ثقافت دوست ہے تو اسے سب سے پہلے ان پابندیوں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بسنت کی طرح میلہ چراغاں اور دیگر صوفی میلوں کو بھی بحال کیا جائے۔ یہ میلے صدیوں کے ورثے کا حصہ ہیں، انہیں واپس لائے بغیر پنجاب کی ثقافت ادھوری رہے گی۔پنجاب حکومت کو چاہیے کہ بیساکھی کے میلے پورے صوبے میں دوبارہ زندہ کرے۔ بیساکھی نہ صرف زرعی تہوار ہے بلکہ پنجابی شناخت کی گہرائیوں سے جڑا ہوا موسم بہار کا جشن ہے۔ اسی طرح میلہ مویشیاں صرف حیوانات کی خرید و فروخت نہیں بلکہ کسانوں، ہنرمندوں، لوک سازوں، اور ثقافتی رنگوں کا عظیم اجتماع ہوتا تھا—یہ میلے ہر شہر اور ہر تحصیل میں دوبارہ لگنے چاہئیں۔اور پھر ایک بڑا سوال: اسٹریٹ تھیڑ، عوامی ناٹک، لوک موسیقی، خاکسار فنکار، گھمبیر، جھومر، دھمال، قوالی، لوک ڈرامہ—یہ سب کہاں ہیں؟ یہ فنون ماضی کی داستان کیوں بن چکے ہیں؟ جب تک حکومت عوامی سطح پر اس فن اور ثقافت کو دوبارہ زندگی نہیں دے گی، پنجاب کی سماجی فضا اسی طرح گھٹن زدہ رہے گی۔حقیقت یہ ہے کہ ثقافت کو دبانا سماج کو کمزور کرتا ہے۔ جب لوگ ناچ گانے، قوالی، لوک کہانی، پتنگ بازی، میلوں، فنکاروں اور اجتماعی تقریبات سے محروم ہو جاتے ہیں تو ان پر تنگ نظری، مذہبی بنیاد پرستی اور عدم برداشت اپنی گرفت مضبوط کر لیتی ہے۔ عوامی ثقافت ایک حفاظتی دیوار ہے جو انسانی جذبات، محبت اور ہمدردی کو زندہ رکھتی ہے۔ یہ دیوار ٹوٹ جائے تو معاشرہ شدت پسندی کے سیلاب میں بہہ جاتا ہے۔اس لیے پنجاب حکومت بسنت کی بحالی پر مبارکباد کی مستحق ہے، مگر اسے یہ سفر جاری رکھنا ہوگا۔ یہ پہلا قدم ہے، آخری نہیں۔ عوامی ثقافت کی بحالی کا دروازہ ایک تہوار سے کھل گیا ہے، مگر اس دروازے کو پوری طرح کھولنے کے لیے صوفی میلوں، بیساکھی، میلہ مویشیاں، لوک موسیقی، تھیڑ، ناٹک اور تمام مقامی سرگرمیوں کی واپسی ضروری ہے۔پنجاب کی فضا دوبارہ ڈھول، مرلی، جھومر اور چراغوں کے نور سے روشن ہو—تو ہی یہ سرزمین اپنی اصل روح کو دوبارہ پا سکے گی۔ یہ ثقافتی آزادی ہی اس خطے میں پھیلی سماجی گھٹن، تنگ نظری اور مذہبی بنیاد پرستی کا اصل علاج ہے۔ یہ بحالی ناگزیر ہے، اور اس کے بغیر پنجاب اپنا کھویا ہوا چہرہ کبھی واپس نہیں پا سکے گا۔







