بستی ملوک کے چار قتل کیس کا فیصلہ، ملزم کو پانچ بار سزائے موت، 20 لاکھ روپے جرمانہ

بستی ملوک میں اڈالاڑ چک نمبر 14 فیض کے لرزہ خیز چار قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے جرم ثابت ہونے پر ملزم محمد وارث ولد اللہ دتہ کو مجموعی طور پر پانچ مرتبہ سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے حکم دیا کہ جرمانے کی رقم مقتولین کے ورثا کو بطور معاوضہ ادا کی جائے، بصورت دیگر قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔استغاثہ کے مطابق 8 اگست 2025 کو اڈالاڑ چک نمبر 14 فیض میں دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ مدعی محمد بوٹا نے بیان دیا کہ وہ اپنے بھائی اور ایک ساتھی کے ہمراہ اپنی اہلیہ اور بچوں کو لینے سسرال پہنچا تو کمرے سے بچوں کی چیخ و پکار سنائی دی۔ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہونے پر دیکھا کہ ملزم محمد وارث ہاتھ میں چھری لیے موجود تھا جبکہ کمرے میں اس کی بیٹی ارشاد بی بی، دو نواسوں احمد علی اور محبت علی اور نواسی مہناز بی بی کی لاشیں پڑی تھیں۔مدعی کے مطابق ملزم نے اپنی بیٹی اور تین کمسن بچوں کو تیز دھار آلے سے قتل کیا۔ اطلاع ملنے پر پولیس نے نعشوں کو تحویل میں لے کر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ مکمل تفتیش کے بعد چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے گواہوں کے بیانات، فرانزک شواہد اور دیگر ثبوتوں کی روشنی میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو پانچ مرتبہ سزائے موت اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔

شیئر کریں

:مزید خبریں