بجلی کھپت میں 8 فیصد کمی

بجلی کھپت میں 8 فیصد کمی ،صارفین سے اربوں روپے وصولی جاری

ملتان (جوائنٹ ایڈیٹر ڈیسک) بجلی کھپت میں 8 فیصد کمی ، کیپسٹی ایڈجسٹمنٹ چارجز کے نام پر صارفین سے اربوں روپے کی وصولی جاری، حکومت بجلی کی کھپت بڑھانے میں ناکام ۔ نیپرا نے وزرات توانائی اور پاکستان پاور پرچیزنگ ایجنسی اور ڈسکوز کو ذمہ دار قرار دے ڈالا- نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی – نیپرا کا کہنا ہے فروری 2024ء میں بجلی کی کھپت میں 8ء5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ 7 ہزار 9 سو 38 گیگا واٹ آور بجلی کی کھپت ہوئی جبکہ جنوری میں 7 ہزار 9 سو 38 گیگا واٹ اور بجلی کی کھپت ہوئی تھی جو گزشتہ سال جنوری کے مہینے سے 14 فیصد کم ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ بجلی کی پیداوار ، ترسیل و تقسیم کے نظام میں شامل تمام ادارے بجلی کی پیداوار اور کھپت کے درمیان بڑھتے ہوئے بڑے فرق کو کم کرنے میں مسلسل ناکام نظر آرہے ہیں اور ان کی اس ناکامی کی قیمت بجلی کے صارفین چکا رہے ہیں- نیپرا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بجلی کے صارفین بجلی کی کل پیداوار کے 26 سے 80 فیصد استعمال کیے بغیر کیپسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے کی ادائیگی کر رہے ہیں- نیپرا کا کہنا ہے کہ بجلی کے صارفین سے وصول کیے جانے والے بجلی کے بلوں کی مد میں اربوں روپے میں ستر فیصد نا استعمال کی جانے والی بجلی کی قیمت بھی شامل ہے۔ نیپرا کے مطابق تھرمل بجلی گھر کال استعداد میں سے 35 فیصد بجلی ہی پیدا کررہے ہیں جبکہ باقی ماندہ نہ پیدا ہونے والی 65 فیصد بجلی کے کیپسٹی چارجز صارفین پر سے وصول کیے جا رہے ہیں- نیپرا کا کہنا ہے کہ کزشتہ روز بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ماہانہ فیول ایڈجسٹ منٹ کی مد میں ہونے والا اضافہ 4 روپے 99 پیسے کا مطلب یہ ہے کہ بجلی کے صارفین کو فی یونٹ بجلی کی مد میں چار ماہی 2 روپے 63 پیسہ ادا کرنے پڑیں گے جو کہ نہ استعمال ہونے والی بجلی کے کیپسٹی چارجز ہیں اور اس طرح سے فروری کے مہینے کی ایندھن کی لاگت فی یونٹ 7 روپے 63 پیسہ بنتی ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ بجلی کی کمپنیوں کی جانب سے فروری میں بجلی کے بلوں میں صارفین کو 34 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا دعوا غلط ہے یہ بوجھ 53 ارب روپے کا ہوگا- نیپرا کا کہنا ہے کہ پوری دنیا میں کیپسٹی چارجز کی مد میں صارفین پر بوجھ 30 سے 35 فیصد کے درمیان ہے جبکہ پاکستان میں صارفین پر یہ بوجھ 62 سے 70 فیصد کے درمیان تک بڑھ چکا ہے اور اس کی ذمہ داری پاور سسٹم کے ذمہ دار ادارے ہیں جن میں وفاقی وزرات توانائی ، سنٹرل پاور پرجيزنگ ایجنسی، بجلی کی تقسیم کار کی کمپنیاں اور نیشنل پاور ٹرانسمیشن کمپنی ہیں – نیپرا نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارے ان کی بات سننا ہی بند کرچکے ہیں- نیپرا کا کہنا ہے کہ فروری کے مہینے میں صارفین نے جنوری میں بجلی کے بلوں میں 9 روپے 32 پیسا فی یونٹ کل فیول کیپسٹی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ادا کیے تھے جبکہ مارچ میں فروری کے مہینے میں بجلی کے بلوں میں کل فیول کیپسٹی ایڈجسٹممنٹ کی مد میں 132 فیصد اضافے کی مانگ کی گئی ہے۔ حالیہ چند ماہ میں فیول کیپسٹی ایڈجسٹمنٹ – ایف سی اے کی مد میں 80 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جو رواں مالیاتی سال کے پہلے مہینے (جولائی 2023ء) میں 26 فیصد تھا- حکومت پاکستان رواں مالی سال میں بجلی کی بنیادی قیمت میں 26 فیصد جبکہ چار ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 18 فیصد اضافہ کرچکی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں کل بجلی کی پیداوار میں 77 فیصد بجلی مقامی سستے زرایع سے پیدا کی جاتی ہے#

شیئر کریں

:مزید خبریں