تازہ ترین

بجلی شارٹ فال 4 ہزار میگاواٹ، پنجاب و سندھ میں طویل لوڈشیڈنگ

ملتان( عامر حسینی)پاکستان میں جاری سردی کی شدید لہر کے دوران ملک بھر میں بجلی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے اور قومی سطح پر شارٹ فال 4,000میگاواٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔ صرف ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کے تحت علاقوں میں ہی 1100میگاواٹ سے زائد کا شارٹ فال ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث شہری اور دیہی علاقوں میں روزانہ کئی گھنٹے کی جبری لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔میپکو ذرائع کے مطابق شدید دھند اور سردی کے باعث تھرمل پاور پلانٹس بار بار ٹرپ کر رہے ہیں جبکہ موسمی معمول کے مطابق ہائیڈل پاور جنریشن بھی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوئی جب ساہیوال کول پاور پلانٹ کا ایک یونٹ بند کر دیا گیا، جس سے میپکو، لیسکو اور دیگر ترسیلی کمپنیوں کو فراہم کی جانے والی بجلی میں مزید کمی واقع ہوئی۔دھند اور خراب موسم کے باعث مٹیاری تا لاہور ایچ وی ڈی سی ٹرانسمیشن لائن جیسے بڑے وولٹیج راستے بھی متاثر ہو چکے ہیں، جو پنجاب کے مختلف اضلاع کو بجلی کی ترسیل کرتے ہیں۔شہری علاقوں میں روزانہ چار سے چھ گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں چھ سے دس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ بعض علاقوں میں اس سے بھی زیادہ وقت کے لیے بجلی بند کی جا رہی ہے۔ ایک صارف نے ڈیلی منٹ مرر کو بتایا کہ “ملتان شہر میں روزانہ تین سے پانچ گھنٹے بجلی غائب رہتی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں آٹھ سے بارہ گھنٹے کی بندش ہو رہی ہے۔”بجلی کی عدم دستیابی سے پانی کی فراہمی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ ٹیوب ویل بند ہونے سے واسا کی طرف سے پانی کی سپلائی رک گئی ہے، جس سے گھروں میں گرم پانی کی فراہمی بھی ممکن نہیں رہی۔میپکو حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کی وجہ قومی گرڈ سے کم فراہمی اور متبادل ذرائع سے ناکافی بجلی کی پیداوار ہے۔ “کئی صارفین نیٹ میٹرنگ کے ذریعے شمسی توانائی استعمال کر رہے تھے، لیکن شدید دھند کے باعث سولر سسٹمز بجلی پیدا نہیں کر رہے، اور اب ہمیں ان سے بھی کوئی بجلی موصول نہیں ہو رہی،” میپکو کے سی ای او نے وضاحت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کئی پاور پلانٹس سخت دھند کی وجہ سے گرڈ سے آؤٹ ہو چکے ہیں، جس سے شارٹ فال مزید بڑھ گیا ہے۔”حکام کے مطابق اس سال سردی کے باعث بجلی کی طلب میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 2,000 میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے، کیونکہ گھروں میں ہیٹنگ اپلائنسز کا استعمال نمایاں حد تک بڑھ چکا ہے۔ہائیڈل جنریشن کی بندش اور تھرمل پلانٹس کے متاثر ہونے سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اس وقت”رولنگ بلیک آؤٹس” کے سوا کوئی اور راستہ نہیں دیکھ رہیں۔ عوامی سطح پر شدید غصہ اور حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

شیئر کریں

:مزید خبریں