ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں حرام خوری کا ایک اور سیاہ باب کھل کر سامنے آ گیا ہے، جہاں قانون، عدالتی ہدایات اور انتظامی ضابطوں کو روندتے ہوئے ایک بدنام پٹواری نے سابق ڈپٹی کمشنر رانا رضوان قدیر کو حسب خواہش رام کرتے ہوئے شیشے میں اتارا اور سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر کو اس حد تک خوش کر دیا کہ وہ ریاض جہانگیر کے بیٹے اسد جہانگیر کو غیر قانونی طور پر پٹواری تعینات کرنے کے لیے سابق اسسٹنٹ کمشنر ملتان سیمل مشتاق کے کیریئر کو خراب کرنے پر تل گئے اور ان کی اے سی آر خراب کرنے کی دھمکی دے دی۔ بدنام زمانہ پٹواری ریاض جہانگیر نے اپنی ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ قبل ایک منظم منصوبے کے تحت خود کو جان بوجھ کر ’’ان فِٹ‘‘ قرار دلوایا تاکہ میڈیکل گراؤنڈ کا بہانہ بنا کر اپنے بیٹے اسد جہانگیر کی پٹواری بھرتی کی راہ ہموار کی جا سکے۔ ذرائع کے مطابق ریاض جہانگیر نے اس مقصد کے لیے ڈپٹی کمشنر ملتان سے معاملات طے کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان جن کے پاس قانونی طور پر پٹواری بھرتی کرنے کا اختیار تھا ،نے صاف الفاظ میں اس غیر قانونی تقرری سے انکار کر دیا۔ اس انکار کے بعد ریاض جہانگیر اور ان کے سہولت کاروں نے نیا راستہ نکالا اور انہیں مشورہ دیا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ سے محض ایک’’ڈائریکشن‘‘حاصل کی جائے۔ باقی کام سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر کے ساتھ پہلے سے طے تھے۔ چنانچہ لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس میں ڈپٹی کمشنر کو فریق بنایا گیا اور عدالت سے یہ ہدایت حاصل کی گئی کہ متعلقہ درخواست پر 30 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ واضح طور پر محض ایک ڈائریکشن تھی، کوئی ایسا عدالتی فیصلہ نہیں تھا جس میں اسد جہانگیر کو لازمی طور پر پٹواری بھرتی کرنے کا حکم دیا گیا ہو مگر چونکہ سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر کے ساتھ ریاض جہانگیر کی مبینہ ڈیل ہو چکی تھی چنانچہ یہاں قانون کے ساتھ کھلا مذاق کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کی اس ڈائریکشن سے قبل ہی’’انڈر ٹیبل‘‘ معاملات طے پا چکے تھے، جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر ملتان نے ریاض پٹواری کو میڈیکل گراؤنڈ کا سہارا دیتے ہوئے اس کی جگہ اس کے بیٹے اسد جہانگیر کو پٹواری بھرتی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ یہ اقدام نہ صرف عدالتی ہدایات کی من مانی تشریح تھا بلکہ صوبائی قوانین اور سرکاری پالیسیوں کی صریح خلاف ورزی بھی تھا۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس غیر قانونی بھرتی کے لیے ایک نجی اور غیر منظور شدہ ادارے کا پٹوار کورس کا جعلی ڈپلومہ استعمال کیا گیاجس کی کسی بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کروائی گئی۔ حیران کن طور پر اتنے بڑے عہدوں پر فائز افسران نے نہ تو ادارے کی قانونی حیثیت جانچنے کی زحمت کی اور نہ ہی تعلیمی اسناد کی تصدیق ضروری سمجھی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ یہی ’’میڈیکل گراؤنڈ‘‘پر بھرتی ہونے والا پٹواری اسد جہانگیر چار پٹوار سرکلوں کا انچارج ہےجہاں وہ مبینہ طور پر بے دھڑک پیسہ کما رہا ہے اور اس کی تعیناتی سے لے کر آج تک ہر افسر اسد جہانگیر کا سہولت کار ہے اس لیے اسے اس کی مرضی کے مینول اور اچھی کمائی والے موضع جات دیئے جاتے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسد جہانگیر نہ صرف خود لین دین میں ملوث ہے بلکہ کھلے عام یہ دعویٰ بھی کرتا ہے کہ وہ یہ سب اکیلا نہیں لیتا بلکہ’’اوپر ‘‘تک حصہ پہنچایا جاتا ہے۔ یہ سکینڈل ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کس طرح عدالتی ہدایات کو ڈھال بنا کرجعلی اسناد کے سہارے اور انتظامی اختیارات کے غلط استعمال سے نہ صرف قانون کا قتل کیا جاتا ہے بلکہ پورے نظام کو بدنامی کے گڑھے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ یہ انکشاف بھی ملتان کی انتظامی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کسی پٹواری نے اپنے 2 پٹوار سرکلوں کے علاوہ بھی 2 پٹوار سرکل ٹھیکے پر لے رکھے ہیں اور وہاں پر تعینات پٹواری کو کل آمدن کا 60 فیصد خاموش رہنے اور دستخط کرنے کا دے دیا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سنگین معاملے پر کوئی آزاد اور شفاف انکوائری ہو گی یا یہ فائل بھی طاقتور ہاتھوں میں دب کر رہ جائے گی؟۔
مزید پڑھیں: ملتان: پٹواری بھرتی، اشتہار، ٹیسٹ، میرٹ دفن، ڈی سی حکم پر قانون پامال
ملتان (سٹاف رپورٹر) ملتان میں پٹواری بھرتیوں کا سکینڈل محض ایک فرد یا ایک تقرری تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ معاملہ انتظامی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قانون کی کھلی تذلیل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس سکینڈل میں ایک چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس میں اپوائنٹنگ اتھارٹی کے کردار نے پورے نظام پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ قانون کے تحت پٹواری کی بھرتی کے لیے اسسٹنٹ کمشنر سٹی ملتان سیمل مشتاق بطور اپوائنٹنگ اتھارٹی پابند تھیں کہ سب سے پہلے اخباری اشتہار جاری کیا جاتا، اس کے بعد امیدواروں سے درخواستیں وصول کی جاتیں، پھر تحریری ٹیسٹ لیا جاتا اور ٹیسٹ پاس کرنے والے امیدواروں کا انٹرویو ہوتا۔مگر حیران کن طور پر اس پورے قانونی فریم ورک کو ایک جھٹکے میں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ اس میں اپنے من پسند شخص کو بھاری بھرکم رقم کے عوض نوازنے کے لیے نہ کوئی اخباری اشتہار دیا گیا، نہ ٹیسٹ لیا گیا اور نہ ہی میرٹ لسٹ بنائی گئی بلکہ براہِ راست انٹرویو کا ڈرامہ رچا کر تمام قواعد و ضوابط کو پامال کرتے ہوئے پٹواری بھرتی کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف پنجاب لینڈ ریونیو رولز کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے اس مستقل مؤقف سے بھی متصادم ہے جس میں سرکاری بھرتیوں میں اشتہار اور میرٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس تمام تر غیر قانونی کارروائی کی اصل ذمہ داری سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر پر عائد ہوتی ہےجو اس وقت سیکرٹری جنگلات پنجاب کے عہدے پر فائز ہیں۔ ذرائع کے مطابق بغیر قانونی تقاضے پورے کیے پٹواری بھرتی کے احکامات جاری کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو قانون سے لاعلمی کا مظاہرہ کیا گیا یا پھر جان بوجھ کر قانون کو پامال کیا گیا۔ یاد رہے کہ بدنام زمانہ پٹواری ریاض جہانگیر نے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل خود کو جان بوجھ کران فِٹ قرار دلوایا، جعلی و غیر منظور شدہ ادارے کے پٹوار کورس ڈپلومے کے ذریعے اپنے بیٹے اسد جہانگیر کو پٹواری بھرتی کروایا اور لاہور ہائی کورٹ کی محض ایک ڈائریکشن کو مکمل عدالتی حکم بنا کر بھاری بھرکم رقم کے عوض نوازا گیا۔ اس تمام عمل کے دوران جن افسران نے قانون کے مطابق مزاحمت کی، انہیں اے سی آر خراب کرنے اور کیریئر تباہ کرنے کی دھمکیاں دی گئیں تاکہ غیر قانونی تقرری کی راہ میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہی مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بھرتی ہونے والا پٹواری چار پٹوار سرکلوں پر قابض ہے، منافع بخش موضع جات اس کے حوالے کیے گئے ہیں اور وہ کھلے عام اوپر تک حصہ پہنچانے کا دعویٰ کرتا ہےاور چار موضع جات ٹھیکے پر چل رہے ہیں۔ یہ سکینڈل اب محض پٹواری کی کرپشن نہیں رہا بلکہ اپوائنٹنگ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر آفس اور پورے ریونیو سسٹم کے کردار کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتا ہے۔ اس بارے میں سابق ڈپٹی کمشنر ملتان رانا رضوان قدیر نے کوئی جواب نہ دیا۔








