ملتان ( کورٹ رپورٹر) ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس اسجد جاوید گھرال نے خانیوال پولیس اور سی ٹی ڈی کے ہاتھوں 14 سالہ عائشہ بی بی اور اس کے والد عبدالشکور کو گھر میں گھس کر گولی مارنے اور ان کی لاشیں اپنے ہمراہ لے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر ملتان، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خانیوال،سی سی ڈی کے ریجنل آفیسر اور ڈسٹرکٹ آفیسر، ایس ایچ او تھانہ صدر خانیوال، ڈی ایس پی سمیت تمام پولیس افسران کو آج عدالت میں طلب کر لیا ۔پٹیشنر رقیہ بی بی زوجہ محمد جاوید کے وکلا سید اطہرحسن شاہ بخاری،شیخ محمد رحیم اور وسیم اکرم ڈوگر نے فاضل عدالت کو آگاہ کیا کہ سی ٹی ڈی اور تھانہ صدر خانیوال کی پولیس نے ڈی ایس پی کی قیادت میں پیر کے روز صبح 10 بجے عبدالشکور کے گھر پر چھاپہ مارا اور وارننگ دیے بغیر فائرنگ شروع کر دی۔ دو پولیس ملازمین ذیشان گل اور خرم شہزاد کی براہ راست فائرنگ کی وجہ سے 14 سالہ عائشہ بی بی اور اس کا والد موقع پر ہلاک ہو گئے جن کی لاشیں پولیس والے اپنے ساتھ لے گئے۔ گاؤں میں کرفیو کا ماحول پیدا کر دیا اور کسی بھی شخص کو آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پولیس گردی کی بدترین مثال ہے کہ دن دہاڑے پولیس نے سیدھی فائرنگ کر کے دو شہریوں کو ہلاک کر دیا اور دوسرے لوگوں کو دھمکی دی کہ جو بھی آگے آئے گا اسے بھی مار دیا جائے گا ۔کچھ عرصہ قبل عائشہ بی بی کی والدہ حنا بی بی کو بھی پولیس نے حراست میں لیا اور اسے سندھ پولیس کےحوالے کر کے 9سی کے مقدمے میں ملوث کر دیا۔اس کے بھائی اسماعیل کو عدالت کی مداخلت پر رہائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس پٹیشنر کے عزیز و اقارب کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کر رہی ہے اور بے گناہ شہریوں کو ہلاک کر رہی ہے۔
قبل ازیںچک نمبر 171 مہرشاہ ( خانیوال) کی خواتین رقیہ بی بی آسیہ یعقوب وغیرہ نے ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تھانہ صدرخانیوال اور سی سی ڈی کی ٹیم نے ڈی ایس پی خانیوال کی قیادت میں ان کے گھر پر 10 بجے دن چھاپہ مارا اور فائرنگ شروع کر دی دو سپاہیوں ذیشان گل اور خرم شہزاد کی سیدھی فائرنگ کی وجہ سے گھر میں موجود 14 سالہ عائشہ اور اس کا باپ عبدالشکور موقع پر ہلاک ہو گئے چھاپے سے پہلے پولیس نے علاقے میں کرفیو کا سماں پیدا کر دیا لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے اور شور و غوغا کرنے سے منع کر دیا۔اور دھمکی دی کہ جو بھی ان کی مدد کے لیے ائے گا اسے بھی ہلاک کر دیا جائے گا اس کے بعد انہوں نے ان دونوں کی لاشوں کو اپنے ڈالوں میں رکھا اور چلے گئے پولیس ان کی لاشیں واپس نہیں کر رہی ہے اور نہ ہی یہ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ یہ پولیس گردی کی بدترین مثال ہے قبل عظیم پولیس نے عائشہ کی والدہ حنا بی بی اور اس کے بھائی اسماعیل کو گھر سے پکڑا اور انہوں نے پولیس سندھ لی گئی جہاں ان کے خلاف نائن سی کا مقدمہ درج کرا دیا عدالت کے مداخلت پر اسماعیل کو چھوڑ دیا گیا تاہم حنا ابھی تک جیل میں ہے انہوں نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور ذمہ دار پولیس ملازمین کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔







