شمالی وزیرستان کے تحصیل میرعلی میں بچیوں کے واحد اسکول کو بارود سے اڑا دینا محض ایک مقامی سانحہ نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی بحران کی علامت ہے۔ یہ دھماکہ ہمیں اس حقیقت سے روبرو کرتا ہے کہ تعلیم پر حملہ صرف ایک عمارت کی تباہی نہیں بلکہ ریاست، سماج اور خطے کی مجموعی ناکامی کا اظہار ہے۔ جب ایک بچی کے ہاتھ سے کتاب چھینی جاتی ہے تو دراصل مستقبل کے امکانات، سماجی ارتقا اور امن کے وعدے ملبے تلے دب جاتے ہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ برسوں کی فوجی کارروائیوں، ترقیاتی اعلانات اور امن کے دعووں کے باوجود زمین پر خوف اور عدم تحفظ کی فضا بدستور موجود ہے۔یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے کی ریاستیں افغانستان کی صورتحال پر مشاورت اور مکالمے میں مصروف ہیں۔ ایران کے دارالحکومت میں منعقد ہونے والی علاقائی نشستیں، جن میں پاکستان سمیت کئی پڑوسی ممالک شریک ہوئے، اس امر کی گواہ ہیں کہ افغانستان کی سلامتی اور اس کے اثرات پورے خطے کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ مگر ان سفارتی کوششوں اور اجلاسوں کی گونج جب میرعلی کے ملبے تک نہیں پہنچتی تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ تمام عمل محض بیانیاتی سرگرمی ہے یا واقعی زمینی حقائق کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔شمالی وزیرستان میں اسکولوں کو نشانہ بنانا ایک منظم حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس کا مقصد خوف پھیلانا، سماجی ڈھانچے کو کمزور کرنا اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کو روکنا ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جو سرحد کے اُس پار بھی عورتوں اور بچیوں کو تعلیم کے حق سے محروم رکھے ہوئے ہے۔ جب افغانستان میں بچیوں کے اسکول بند کیے جاتے ہیں اور وہاں خواتین کی سماجی زندگی کو محدود کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات سرحد کے اِس طرف بھی محسوس ہوتے ہیں۔ شدت پسند نظریات سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے، وہ فکری اور سماجی خلا میں سرایت کر جاتے ہیں۔ریاست نے شمالی وزیرستان کو ایک بعد از تنازع دور کا وعدہ دیا تھا۔ کہا گیا تھا کہ شدت پسندی کا خاتمہ ہو چکا، امن قائم ہو گیا اور اب ترقی کا سفر شروع ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جب اسکول بار بار نشانہ بنیں، اساتذہ خوفزدہ ہوں اور والدین اپنی بچیوں کو دوبارہ گھروں میں بٹھانے پر مجبور ہو جائیں تو یہ وعدے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکری کارروائیوں کے بعد سماجی بحالی اور فکری محاذ پر کام نہیں کیا گیا۔ امن صرف بندوق کی خاموشی سے نہیں آتا، امن تعلیم، روزگار اور انصاف سے جنم لیتا ہے۔علاقائی سطح پر افغانستان کے حوالے سے ہونے والی مشاورت میں دہشت گردی، سرحدی سلامتی اور سیاسی استحکام پر تو بات ہوتی ہے، مگر تعلیم اور انسانی حقوق اکثر ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر تعلیم کو تحفظ نہ دیا گیا تو شدت پسندی کی جڑیں مزید گہری ہوتی جائیں گی۔ افغانستان میں بچیوں کی تعلیم پر پابندی اور وہاں خواتین کے خلاف منظم جبر نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے جو پورے خطے کے لیے زہر قاتل ہے۔ جب یہ بیانیہ سفارتی سطح پر مؤثر انداز میں چیلنج نہیں کیا جاتا تو اس کے اثرات میرعلی جیسے علاقوں میں دھماکوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔پاکستان نے علاقائی فورموں میں بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ سرحد پار شدت پسند گروہوں کی موجودگی اس کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ یہ مؤقف اپنی جگہ درست، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا داخلی سطح پر شدت پسند سوچ کے سماجی اور تعلیمی محاذ پر توڑ کے لیے سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ اسکولوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ محض سرحدی نگرانی اور عسکری حکمت عملی کافی نہیں۔ جب تک تعلیم کو قومی سلامتی کا بنیادی ستون تسلیم نہیں کیا جاتا، تب تک یہ حملے رکنے والے نہیں۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ علاقائی مشاورت کے فورم محض مشاورتی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس فیصلوں کو نافذ کرنے کا کوئی مؤثر نظام نہیں ہوتا۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر شدت پسند قوتیں اپنا کھیل جاری رکھتی ہیں۔ افغانستان کی موجودہ حکمران قوتوں کی طرف سے ان فورموں میں عدم شرکت اور اجتماعی فیصلوں سے گریز اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی اتفاق رائے ابھی ایک خواب ہے۔ اس خواب کی قیمت میرعلی کی بچیاں اپنی تعلیم سے محرومی کی صورت میں ادا کر رہی ہیں۔تعلیم پر حملے کو محض مقامی سطح کا مسئلہ سمجھنا ایک سنگین غلطی ہوگی۔ یہ دراصل پورے خطے کی فکری جنگ ہے۔ ایک طرف کتاب، قلم اور سوال ہیں، دوسری طرف بارود، خوف اور خاموشی۔ اگر ریاست اور سماج نے واضح طور پر کتاب کا ساتھ نہ دیا تو یہ جنگ ہاری جا سکتی ہے۔ میرعلی کا اسکول ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ ہر سفارتی بیان، ہر علاقائی اجلاس اور ہر سلامتی حکمت عملی کا اصل امتحان زمین پر ہوتا ہے، وہاں جہاں ایک بچی اسکول کا دروازہ کھلنے کی منتظر ہوتی ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حملوں کو محض امن و امان کا مسئلہ نہ سمجھے بلکہ انہیں قومی سلامتی اور سماجی بقا کے تناظر میں دیکھے۔ اسکولوں کی حفاظت کے لیے مستقل اور مربوط نظام کی ضرورت ہے۔ مقامی برادریوں کو اعتماد میں لے کر حفاظتی انتظامات کیے جائیں، خفیہ معلومات کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جب تک سزا اور جواب دہی کا عمل نظر نہیں آئے گا، خوف کی فضا قائم رہے گی۔علاقائی سطح پر بھی پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں میں تعلیم اور انسانی حقوق کو مرکزی نکتہ بنانا ہوگا۔ افغانستان کے حوالے سے کسی بھی مشترکہ حکمت عملی میں بچیوں کی تعلیم اور سماجی آزادی کو نظر انداز کرنا دراصل شدت پسند بیانیے کے سامنے پسپائی اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر خطے کی ریاستیں واقعی پائیدار امن چاہتی ہیں تو انہیں تسلیم کرنا ہوگا کہ تعلیم کے بغیر سلامتی ممکن نہیں۔میرعلی کا ملبہ ہم سے یہ سوال کرتا ہے کہ کیا ہم نے امن کو صرف عسکری مسئلہ سمجھ کر اس کی روح کو نظر انداز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر ازسرنو غور کریں۔ تعلیم کو تحفظ دینا محض ایک سماجی خدمت نہیں بلکہ ایک سیاسی اور سلامتی فیصلہ ہے۔ جب تک یہ فیصلہ واضح اور مضبوط انداز میں نہیں کیا جاتا، بارود کتابوں پر غالب آتا رہے گا، اور ہر نیا دھماکہ ہمیں ہماری اجتماعی ناکامی کا آئینہ دکھاتا رہے گا۔







