ملتان (سپیشل رپورٹر) ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں افسران اور عملے کے درمیان شدید اختلافات نے باقاعدہ محاذ آرائی کی شکل اختیار کر لی ہے جس کے باعث ادارے کے تمام اہم امور تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم ڈی اے پہلے ہی شدید مالی مشکلات کا شکار تھا تاہم حالیہ اندرونی لڑائی کے علاوہ ایسٹرن ہاؤسنگ سوسائٹی اور بُچ ولاز کے متنازعہ توسیعی منصوبے کی منظوری کے دباؤ نے ادارے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک بااثر شخصیت کی جانب سے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ایسٹرن ہاؤسنگ اور بُچ ولاز کے توسیعی منصوبے کو ہر صورت منظور کیا جائے، چاہے اس کے لیے قواعد و ضوابط کو ہی کیوں نہ بالائے طاق رکھنا پڑے۔ اطلاعات کے مطابق اگر اس منصوبے کو قانون کے مطابق منظور کیا جائے تو اس کی فیس اور واجبات کروڑوں روپے بنتے ہیں جو ایم ڈی اے کے خزانے میں جمع ہونےچاہئیں مگر مذکورہ بااثر شخصیت مبینہ طور پر یہ منظوری مفت میں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ابتدا میں ڈی جی ایم ڈی اے نے مبینہ طور پر اس معاملے میں نرمی دکھانے اور مخصوص فریق کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی، تاہم ادارے کے کئی افسران اور عملے نے اس پر شدید اعتراض اٹھا دیا۔ عملے کا مؤقف ہے کہ اگر اس غیر قانونی منظوری پر دستخط کیے گئے تو کل کو انکوائریاں شروع ہونے کی صورت میں وہ سب قانون کی گرفت میں آ جائیں گے۔ ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر یہ منصوبہ غیر قانونی طور پر منظور ہوا تو یہ معاملہ صرف چند کروڑ روپے کا نہیں رہے گا بلکہ اس کی مالیت اربوں روپے تک جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں یہ ایک بڑا سکینڈل بن سکتا ہے جس میں اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور نیب جیسے اداروں کی کارروائیاں ناگزیر ہوں گی۔ اس معاملے نے ایم ڈی اے کے افسران اور ماتحت عملے کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اندرونی اختلافات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ کئی اہم فائلیں ہفتوں سے رکی پڑی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نہ صرف متنازعہ منصوبہ بلکہ دیگر قانونی معاملات بھی تعطل کا شکار ہو چکے ہیں جس سے ایم ڈی اے کی آمدن کا بڑا ذریعہ متاثر ہو رہا ہے۔ متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی مکمل انتظامی بحران کا شکار ہو سکتی ہے اور شہر میں جاری ترقیاتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوں گی۔ آخر وہ کون سی بااثر شخصیت ہے جو ایم ڈی اے پر اربوں روپے کے منصوبے کی مفت منظوری کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے؟ کیا ایم ڈی اے انتظامیہ قواعد و ضوابط کو نظر انداز کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی تیاری کر رہی ہے؟ اگر ادارے کے اندرونی افسران خود اس منصوبے کو غیر قانونی قرار دے رہے ہیں تو پھر اس دباؤ کے پیچھے کون سی طاقتیں کام کر رہی ہیں؟ کیا صوبائی حکومت اور متعلقہ احتسابی ادارے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں گے؟ شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کروا کر ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے تاکہ قومی خزانے کو ممکنہ اربوں روپے کے نقصان سے بچایا جا سکے۔







