اے پی این اے قیادت اسلام آبادآئے،دوردرازکےمیڈیاپرسنزکےمسائل حل کرینگے:وفاقی وزیراطلاعات

آل پروفیشنل نیوز پرسنز الائنس چھوٹےشہروں کے چھوٹےصحافیوں کی بڑی تنظیم ،حکومت پیکیج کااعلان کرے:مزمل سہروردی

بڑےشہروں کے صحافی چھاتہ بردار،چھوٹے علاقوں کے نمائندوں سے معلومات لیکرتاج اپنے سرسجالیتے ہیں، اے پی این اے اپنے اتحاد کو برقرار رکھے:مرتضیٰ سولنگی

ریاست کے تین ستون کنکریٹ،چوتھا صحافت کا ستون سر کنڈے کا ہے، کوئی تحفظ نہیں،علاقائی نمائندگان کوریلوے، پی آئی ڈی، ڈی جی پی آر کارڈ جاری ،جہیزفنڈدیاجائے:مرکزی صدرمیاں غفاراحمد

تنظیم سے ملک بھرکےچھوٹے شہروں کے نمائندے منسلک ،بڑے شہروں کے میڈیا ورکرز کو رکھنا نہیں چاہتے :مرکزی سیکرٹری جنرل، آل پروفیشنل نیوز پرسنز الائنس کی تقریب،وزیراطلاعات نے حلف لیا

ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ میں نے بڑے شہروں کے چھاتہ بردار صحافی بڑی تعداد میں دیکھے ہیں جو چھوٹے علاقوں کے نمائندگان سے تمام تر معلومات لے کر اہم ترین واقعات کا تاج اپنے سر پر سجا لیتے ہیں۔ کسی بھی زندہ معاشرے کی آنکھیں اور کان یہی صحافی ہوتے ہیں اور جب کان سننا اور آنکھیں دیکھنا اور دکھانا بند کر دیں تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ قطع نظر کہ آپ چھوٹے شہروں سے ہیں یا بڑے شہر سے۔ معلومات کا حصول اور لوگوں تک ترسیل آپ ہی کا کام ہے۔ میں سندھ کے ایک چھوٹے سے شہر پڈعیدن سے تعلق رکھتے ہوئے یہ بخوبی جانتا ہوں کہ اصل معلومات آپ ہی کے پاس ہوتی ہیں اور وہ ہوتی بھی حقیقت کے بہت قریب ہیں۔ میں خصوصی طور پر آپ نمائندگان کی اس آل پروفیشنل نیوزپرسنز الائنس کی تقریب حلف وفاداری میں اس لیے آیا ہوں کہ ایک چھوٹے سے شہر کے عام سے خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے مجھے آپ کے مسائل سے آگاہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز لاہور میں آل پروفیشنل نیوز پرسنز الائنس کی تقریب حلف وفاداری کے موقع پر کیا۔ انہوں نے اے پی این اے کے مرکزی صدر میاں غفار احمد اور جنرل سیکرٹری مزمل سہروردی کے مطالبات کی روشنی میں اعلان کیا کہ آپ کی تنظیم کی مرکزی قیادت فوری طور پر اسلام آباد آئے جہاں وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور ہم سب ملکر بیٹھیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ دور دراز کے علاقوں کے میڈیا پرسنز کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لیے ہم فوری طور پر کیا کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں اور پھر کون کون سے اقدامات ہینڈ اور نوٹس کے طور پر فائل کا حصہ بنا کر پائپ لائن میں رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ذہن میں خاکہ موجود ہے اور اس کا حل بھی ہے بس آپ جلد اسلام آباد آئیں تاکہ پراسس شروع کیا جا سکے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم وزارت اطلاعات کی انفارمیشن سروس اکیڈمی میں نمائندگان اور میڈیا پرسنز کی تربیت کا بھی اہتمام کریں گے اور ملک بھر میں صوبائی دارالحکومتوں اہم شہروں میں اس حوالے سے ورکشاپس کا انعقاد بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل قریب میں میڈیا کا نقشہ مزید تبدیل ہو رہا ہے۔ کبھی میرے آبائی شہر میں چند اخبارات آتے تھے جسے سائیکل سوار تقسیم کرتا تھا۔ میں سکول میں پڑھتا تھا اور سینئر شہریوں کو بازار میں اخبار پڑھ کر سناتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اے پی این اے اپنے اتحاد کو برقرار رکھے آپ کے پاس معلومات ہیں اور معلومات ہی طاقت ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز کے درجنوں کاروباروں میں سے آجکل ایک کاروبار میڈیا بھی ہے جوان کے باقی تمام کاروباروں اور دکانوں کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ میڈیا کارکنان کو بھاری معاوضے پر دوسرے اداروں سے توڑ کر اپنے پاس لاتے ہیں اور چند ہی ہفتوں میں فارغ کر کے انہیں کہیں کا نہیں رہنے دیتے۔ قبل ازیں اے پی این اے کے مرکزی صدر میاں غفار احمد نے تنظیم اور صحافتی مسائل کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نمائندگان اور دور
دراز کے علاقوں کے میڈیا ورکرز کو کسی بھی قسم کا تحفظ حاصل نہیں نہ ہی ان کے ادارے ان کی کسی بھی قسم کی سپورٹ کرتے ہیں اور نہ ہی حکومتی سطح پر اس چوتھے ستون کو کسی بھی طرح کا تحفظ حاصل ہے۔ ویسے تو میڈیا کو چوتھا ستون کہا جاتا ہے مگر یہ کیسا چوتھا ستون ہے کہ ریاست کے تین ستون تو اعلیٰ ترین کنکریٹ کے ہیں اور ہر قسم کے تحفظ میں ہیں مگر یہ چوتھا صحافت کا ستون سر کنڈے کا ہے جسے نہ کوئی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی کوئی اسے اون کرتا ہے۔ صحافیوں پرجھوٹے مقدمات درج ہوتے ہیں۔ ان کا قتل کردیا جاتا ہے مگر ان کے پسماندگان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ہے۔ میاں غفار نے کہا کہ میں اس اے پی این اے کے پلیٹ فارم سے اپیل کرتا ہوں کہ ملک بھر میں پی آئی ڈی کےدفاتر اور نیٹ ورک موجود ہیں جس طرح گزیٹڈ افسران کے خلاف مقدمات درج کرنے سے پہلے محکمہ کے ارباب اختیار سے اجازت لینا پڑتی ہے اسی طرح صحافیوں کے خلاف مقدمات کا بھی پی آئی ڈی کے نوٹس میں لائے بغیر اندراج نہ کیا جائے۔ علاقائی نمائندگان کو بھی ریلوے کارڈز کی رعایت دی جائے۔ پی آئی ڈی اور ڈی جی پی آر کی طرف سے میڈیا ورکرز کی طرز پر نمائندگان کےلئے بھی کارڈ جاری کئے جائیں۔ صحافیوں کا بھی کوئی ای او بی آئی ہو، کوئی سوشل سکیورٹی ہو، کسی قسم کا تحفظ ان کے لئے بھی ہو۔ ایک مزدور کی بچی کی شادی کے لئے جہیز فنڈ ہے مگر میڈیا ورکرز کے لئے کچھ بھی نہیں۔اس موقع پر اپنے استقبالیہ خطاب میں اے پی این اے کے مرکزی سیکرٹری جنرل مزمل سہروردی نے کہا کہ یہ چھوٹے شہروں کے چھوٹے لوگوں کی بڑی تنظیم ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی سے کہا کہ آپ آئے سر آنکھوں پر کہ ہمارے ساتھ اس تنظیم میں ملک بھر کے ہر چھوٹے شہر کے نمائندے منسلک ہیں اور ہم بڑے شہروں کے میڈیا ورکرز کو اپنے ساتھ رکھنا بھی نہیں چاہتے۔ آپ چند ماہ میں کچھ ایسا کریں کہ ان کی بھی پہچان ہو۔ ملک کے چپے چپے کی خبریں یہی آپ کو پہنچاتے ہیں۔ آپ توجہ سے سب کی باتیں سنیں اور کوئی نہ کوئی اعلان بھی کریں۔ حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صحافی آپ سے یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ الیکشن پر ابہام کیوں ہے۔ اس موقع پر اے پی این اے پنجاب کے صدر شہباز خان، مرکزی نائب صدر میاں نجم قدیر، جنرل سیکرٹری خواتین ونگ مقدس ملک اعوان، صدر اے پی این اے سندھ فیاض اعوان، سینئر نائب صدر پنجاب عاطف سعید نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے صحافیوں کو در پیش مسائل سے آگاہ کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ظفر اقبال نے ادا کئے۔
تقریب حلف برداری میں ملک بھر سے آل پروفیشنل نیوز پرسنز الائنس کے عہدےداروں نے شرکت کی اور اپنے اپنے عہدے کا وفاقی وزیر اطلاعات سے حلف لیا۔

شیئر کریں

:مزید خبریں