ملتان ( سٹاف رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان کے سربراہ الیکٹریکل انجینئرنگ کامران لیاقت بھٹی کی مشکوک ڈگریوں بارے مزید انکشافات سامنے آ گئے ہیں جس کے مطابق کامران لیاقت بھٹی جن کی ایف ایس سی میں تین سپلیاں بھی ہیں جنہیں وہ خود تسلیم کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر کامران لیاقت بھٹی کے مطابق انہوں نے آئیوانووا سٹیٹ پاور یونیورسٹی سے 1997 سے 2002 میں تھرمل اینڈ نیو کلیئر پاور انجینئرنگ میں بی ایس سی مکمل کی جس کا تھیسز واٹر کیمیکل کنڈیشن سے متعلق تھا انہی کے مطابق انہوں نے 1998 سے 2002 میں آئیوانووا سٹیٹ پاور یونیورسٹی سے بی بی اے کیا ایک ہی دورانیہ میں ایک ہی یونیورسٹی سے دو مختلف ڈگریاں ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے بی ایس سی انجینئرنگ میں جو مضامین پڑھے ان میں کیمیکل اینڈ ٹیکنالوجیکل پراسس اینڈ واٹر کیمیکل کنڈیشن، ڈیزائن اف ایفیشنٹ کمپلیکس ، ٹیکنیکس اینڈ کنٹرولز اف فیول اینڈ ائل، سسٹم اف کیمیکل اینڈ ٹیکنالوجیل مانیٹرنگ، کیمیکل کنٹرول اینڈ انالسس ٹکنیک، ارگینک کیمسٹری، اکالوجی اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن، ٹیکنالوجی میتھمیٹیکل سیمولیشن آف فزیکل اینڈ کیمیکل پراسیسز، فزیکل اینڈ کیمیکل پراسس، فزیکل اینڈ کیمیکل مینٹینس اینڈ ایڈجسٹمنٹ اف واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ اینڈ واٹر کیمیکل کنڈیشن، ریلائیبلیٹی اینڈ سیفٹی ایکسپلائٹیشن کنڈیشن اف ایکوپمنٹ فنڈامینٹل اف ڈیزائنگ اینڈ اکلوجیکل ایگزامینیشن ایڈجسٹمنٹ اینڈ ایکسپلائٹیشن اف سیوج پلانٹس ان مضامین کی بنیاد پر ایک شخص کو الیکٹریکل انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کا سربراہ لگانا ایک نہایت ہی غیر قانونی کام ہے ایک اور انکشاف کے مطابق کامران لیاقت بھٹی نے نزنی نوو گورڈ ٹیکنیکل یونیورسٹی سے 2004 سے 2006 میں ایم ایس سی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی میں کی جس کا تھیسز ریسرچ کیمیکل ٹیکنالوجی اف ڈیپ ڈیسٹلیشن اف واٹر ڈیپ ڈی سیلینیشن آف واٹر ایک اور انکشاف کے مطابق 17 نومبر 2006 میں ڈائیزٹیشن کونسل کے فیصلے کے مطابق انہوں نے آئیوانووسکی سٹیٹ انرجی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی ٹیکنیکل سائنسز میں کی جبکہ ان کے پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سرٹیفکیٹ پر پی ایچ ڈی کی یونیورسٹی کا نام آئیوانووا سٹیٹ پاور یونیورسٹی ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایکولنسی سرٹیفکیٹ کے مطابق بھی ان کی یونیورسٹی کا نام آئیوانووا پاور سٹیٹ یونیورسٹی ہے۔ ایک اور اہم انکشاف کے مطابق کامران لیاقت بھٹی کی ڈگری انجینئرنگ میں بھی نہ ہے جبکہ کامران لیاقت بھٹی کے مطابق انہوں نے ایوانوو سٹیٹ پاور یونیورسٹی کے کیمسٹری اور کیمیکل ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ سے بی ایس سی اونرز کی ڈگری حاصل کی ہے جبکہ ان کے سپروائزر ڈاکٹر بورس جن کی اپنی ایکسپرٹیز پراپرٹیز اف الیکٹرولائٹک سولیوشن، کیمیکل کنٹرول اف کوالٹی اف کولنٹ، واٹر ڈی سیلینیشن اور واٹر سیویج سسٹمز پر ہیں اس تمام تر صورتحال میں این ایف سی یونیورسٹی ملتان ایک انجینئرنگ ادارہ ہے جس میں منظور شدہ سیٹوں کے مطابق سائنسز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر کی کوئی سیٹ نہ ہے۔ جبکہ ٹیکنیکل سائنسز شخص کا ہیرا پھیری سے اتنے متضاد ڈگریوں اور انکشافات کے بعد بھی سربراہ الیکٹریکل انجینیرنگ ڈیپارٹمنٹ کی کرسی پر 14 سال قابض رہنا ایک سوالیہ نشان ہے۔ یاد رہے کہ ڈاکٹر اختر کالرو کی پالیسی کے مطابق نااہل شخص کو اس کی اہلیت سے بڑھ کر سیٹ پر بٹھا کر تمام جائز و ناجائز کاموں کی منظوری کرواتے رہنا ہی ان کے اقتدار کی طوالت میں کامیابی رہی۔ کامران لیاقت بھٹی نامی شخص کی پرسنل فائل کا ریکارڈ روزنامہ قوم میں محفوظ ہے۔






